یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ دونتسک کے علاقے میں ایک میزائل حملے میں تقریباً 400 روسی فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
میزائل نے میکیوکا کے شہر میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس کے بارے خیال تھا کہ روسی فوج نے اسے اپنا اڈا بنایا ہوا ہے۔
ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم روس نواز حکام نے جانی نقصان ہونے کی تصدیق کی ہے۔
کیؤ میں اتوار کی رات روس سے آنے والے ڈرون اور میزائلوں کا سلسلہ جاری رہا اور فضائی حملوں سے خبردار کرنے والے سائرن بجتے رہے۔
دونتسک کے مقبوضہ حصوں میں روس کے حمایت یافتہ ایک سینئر اہلکار ڈینئل بیزسونوف کے مطابق میکیوکا پر میزائل حملہ نیا سال شروع ہونے کے دو منٹ بعد ہوا۔
امریکہ کے فراہم کردہ میزائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’فنی تعلیم کے ایک سکول کو امریکی ایم ایل آر ایس ہیمارز سے زبردست نقصان پہنچا ہے۔‘
ٹیلی گرام مسیجنگ ایپ پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں ہلاک اور زخمی ہونے والے تھے مگر ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔‘
کئی روسی مبصروں اور بلاگرز نے حملے کی تصدیق کی ہے تاہم کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد دعوے سے کم ہے۔
ایک روسی پریزنٹر نے ٹیلی گرام پر لکھا، ’خاصا نقصان پہنچا ہے مگر 400 کے قریب نہیں ہے۔‘
مگر ایک سابق روسی فوجی ایگور گِرکِن نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ سینکڑوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور عمارت ’مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کا نشانہ بننے والے زیادہ تر جبری بھرتی کیے گئے فوجی ہیں نہ کہ اپنی مرضی سے لڑنے والے۔
انھوں نے مزید کہا کہ گولہ بارود بھی اسی عمارت میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
یوکرینی فوج کے مطابق 400 کے لگ بھگ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ 300 فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
روس کی قائم کردہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے سال کی رات علاقے میں کم سے کم 25 میزائل گرے۔