بلوچستان کے علاقوں تربت اور نوشکی سے پاکستانی فورسز نے 2افرادکوحراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا جبکہ حب میں فائرنگ سے باپ ہلاک اور بیٹا زخمی ہوگیا۔
لاپتہ ہونے والوں کی شناخت نادل اور فیض اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان میں سے نادل کو کیچ سے اور فیض اللہ کو نوشکی سے حراست میں لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والا نادل بالگتر کا رہائشی ہے اس وقت بلیدئی ٹریڈنگ کمپنی میں برسر روزگار تھا اور تربت میں رہائش پذیر تھا کہ فورسز نے کل رات چھاپہ مارکر حراست میں لیا اور نامعلوم مقام منتقل کردیا۔
دوسری جانب نوشکی سے اطلاعات ہیں خاران سے نوشکی آتے ہوئے جنگل کے مقام پر فورسز نے ویگن کو روک کر گاڑی کے ڈرائیور فیض اللہ کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا ہے۔
دریں اثنا حب میں الہ آباد ٹاؤن میں کباڑی کے گودام پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے باپ بیٹا زخمی ہوگئے۔
بعد ازاں باپ زخموں کی تاب نہ لاتے چل بسے جبکہ بیٹے کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
حب پولیس کا دعویٰ ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے جس میں 45 سالہ عبداللہ مگسی ہلاک اور 13 سالہ بیٹا یاسین زخمی ہوا ہے۔
نامعلوم افراد واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔