افغانستان میں طالبان کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے کام کرنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ملک میں خواتین کی آزادی کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔
اسلام پسند حکمرانوں نے کہا کہ این جی او کی خواتین ملازمین حجاب نہ پہن کر شریعت کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔
اس سے پہلے طالبات کے یونیورسٹیوں میں جانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ جو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین کی تعلیم پر تازہ ترین پابندی ہے۔
سنیچر کو جاری حکم وزارت اقتصادیات کی طرف سے قومی اور بین الاقوامی این جی اوز کو لکھے گئے ایک خط میں جاری کیا گیا۔
طالبان کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ اس فیصلے کا اطلاق اگلے نوٹس تک رہے گا۔
تاہم، یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس سے اقوام متحدہ کے اداروں پر اثر پڑے گا، جن کے ملک میں امدادی اور ترقیاتی منصوبے بڑی تعداد موجود ہیں۔
خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ حکم نامے پر فوری عمل نے کرنے والی تنظیم کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔
اگر این جی اوز کو اب صرف مردوں کو ملازمت دینے کی اجازت ہے تو ایسا لگتا ہے کہ افغان خواتین براہ راست امداد حاصل کرنے سے قاصر ہوں گی۔