تربت میں ڈینگی سے 5افرادہلاک، سینکڑوں متاثر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ڈینگی خطرناک حد تک پھیل چکی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک ڈینگی سے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں،جس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی حکمت عملی کی ضرورت ہے وگرنہ مزید قیمتی جانیں جاسکتی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اوورسیزکالونی تربت سے تعلق رکھنے والی گرلز ہائی اسکول ڈنک کی ہیڈمسٹریس ڈینگی سے ہلاک ہوگئی تھیں اور اس سے پہلے کوشقلات میں ڈینگی وائرس سے نوجوان فٹ بالرجان کی بازی ہارچکا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق دشت کنچتی میں تین بچے ہلاک ہوئے تھے جو ڈینگی وائرس کے شکارتھے۔

ڈینگی وائرس سے کثیر تعداد میں نوجوان متاثر ہیں جو علاج کیلئے کراچی کارُخ کررہے ہیں۔

تربت میں ڈینگی کش اسپرے موثر نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکین سخت تشویش سے دوچار ہیں۔

تربت اور اس کے اطراف کے علاقے ڈینگی، ملیریااور دیگر وائرس سے شدید متاثر ہے۔ متاثرین کی تعدادسینکڑوں میں پہنچ چکی ہے۔

عوامی حلقوں کے مطابق بلوچستان حکومت اورمحکمہ ہیلتھ کی عدم توجہی کی وجہ سے تربت اور گردو نواح میں ڈینگی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

مقامی ہسپتالوں میں ڈینگی کے سینکڑوں کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں جبکہ انجمن تاجران کے سابقہ صدر حاجی کریم بخش نے ڈینگی وائرس کی تیزی سے پھیلاؤ اور روک تھام کے لیے محکمہ صحت کے اقدامات کو ناکافی اور غیرموثر قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تربت میں ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت کے پاس مناسب انتظامات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ہسپتالوں میں اس وبا سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی یا سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر صحت کا تعلق تربت سے ہے مگر اس کے باوجود ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی لمحہ فکریہ ہے۔

Share This Article
Leave a Comment