افغانستان میں طالبان کی جانب سے خواتینکیلئے تعلیم کی حصول پر پابندی کے نفاذ کے بعد خواتین نے یونیورسٹیوں کے باہر احتجاج کرنے کے ساتھ ہی آہ و زاری بھی کی۔
بہت سی افغان خواتین 21 دسمبر بدھ کے روز یونیورسٹیوں کے باہر کھڑی تھیں، جن میں سے بیشتر کو سکیورٹی فورسز نے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔ حکمران طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور سکیورٹی فورسز نے اس کا سختی سے نفاذ شروع کر دیا ہے۔
بدھ کو سیاہ چادروں اور سر پر اسکارف میں ملبوس خواتین کابل اور دیگر جگہوں پر یونیورسٹیوں کے باہر جمع ہوئیں۔ ان میں سے بہت سی ایک دن پہلے تک، اپنے مستقبل کے تئیں جو خواب اور امنگیں سجا رکھی تھیں، اس پر آہ و زاری بھی کر رہی تھیں۔
طالبان نے جب خواتین کے لیے یونیورسٹی میں جانے پر پابندی عائد کی، تو ملک بھر کی یونیورسٹیاں موسم سرما کی تعطیلات پر تھیں، تاہم اس وقت بھی بہت سے طلبہ یونیورسٹیوں میں امتحانات دینے یا لائبریریوں میں پڑھنے کے لیے موجود تھے۔
بدھ کے روز کچھ طالبات کو انتظامی امور کی تکمیل کے لیے کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ کابل یونیورسٹی کے ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دیگر طالبات کو ان کی گریجویشن تقاریب میں شرکت کے لیے بھی اجازت دی گئی۔
شعبہ پولیٹیکل سائنس کی تیسرے سال کی ایک طالبہ ہستی ان طالبات میں شامل ہیں، جن کے سالانہ امتحانات پابندی کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے۔
انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پابندی کے اعلان کے بعد ان کی امتحان کی تیاریاں اور جوش جلد ہی سوگ میں بدل گئی۔
ان کا کہنا تھا، ”میں نے تعلیم کے حصول کے لیے اپنی پوری کوشش کی ہے، میرے لیے تو یہ بہت مشکل وقت ہے، کیوں کہ اب مجھے اپنی پڑھائی روکنی پڑ رہی ہے اور میرے مقاصد حاصل نہیں ہو رہے ہیں… اگر خواتین کے لیے حالات ایسے ہی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جا رہا ہے۔”