کراچی: گردوں کے مریض عابد خالد کی جبری گمشدگی پر پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

گردوں کے مریض عابد خالدبلوچ کی کراچی میں پاکستانی سیکورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں جبری گمشدگی پراہلخانہ کی جانب سے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی گئی۔

پریس کانفرنس میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے آمنہ بلوچ بھی موجود تھیں۔

جبری لاپتہ عابد خالد کی فیملی سے تعلق رکھنے والے ایک خاتون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عابد ولد خالد، جسکی عمر چودہ سال ہے، ضلع آواران کے رہائشی ہیں، اور گردے کے تشویشناک حد تک مریض ہیں اور علاج کی غرض سے پچھلے تین، چار مہینوں سے کراچی میں مقیم تھے۔

کل رات ڈیڈھ بجے کے وقت عابد کو کراچی پولیس سی ٹی ڈی نے بمعہ خفیہ اداروں کے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کے ہمراہ ڈالمیاں شانتی نگر سے اسے اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیا، جہاں وہ کرایے کے ایک مکان میں رہائش پذیر تھے۔

انہوں نے کہا کہ عابد بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثرہ جنگ زدہ ضلع آواران کے رہائشی ہیں، وہ ابھی تک ایک بچہ ہیں، جس کی شناختی کارڈ تک نہیں بنی ہوئی ہے، چودہ سال اسکی عمر ہے، گردوں کی شدید بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسکی معمولِ زندگی پہلے سے شدید متاثر ہے، اسکی فیملی مالی حوالے سے بہت تنگ دست ہیں،۔

انہوں نے کہا کہ عابد کے دونوں گردے شدید متاثر ہیں، اسکے ایک گردے کا آپریشن پچھلے مہینے ہوا تھا جبکہ دوسرا گردہ جو مکمل ناکارہ ہو چکا ہے اور ڈاکٹروں نے اسے نکالنے کیلئے آپریشن کرنا تھا جس کیلئے اسے گزشتہ کل کھتیانہ میمن اسپتال میں بھرتی ہونا تھا لیکن مالی مشکلات کی بنا پر فیملی یہ اخراجات جمع نہ کر سکیں تو اسکا آپریشن اگلے منگل کو رکھا گیا، عابد گزشتہ کئی مہینوں سے Hospitalize تھیں، جسے کل رات فورسز نے جبری اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت کے ناطے اپیل کرتے ہیں کہ عابد جو کہ گردوں کے آخری سٹیج کا ایک مریض ہے اور اس منگل کو اسکا آپریشن ہے لہٰذا اسے جلد منظر عام پر لایا جائے تاکہ اسکی زندگی بچ سکے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment