بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل نے پاکستا ن کے وزیر اعظم شہبازشریف سے ملاقات اسلام آباد میں ملاقات کی اورریکوڈک سے متعلق قانون سازی پرتحفظات کا اظہارکیا۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک سے متعلق قانون سازی پر حکومتی اتحادیوں کے تحفظات اب تک برقرار ہیں۔
اختر مینگل نے کہا ہے کہ تمام اختیارات، ٹیکس، منرلز اور مائننگ مرکز کے پاس ہوں گے، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے پاس اب صرف دھوتی رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پر قانون سازی کے مخالف ہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہے، یہ ریکوڈک کا نہیں بلوچستان کو ہڑپ کرنے کا معاملہ ہے۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جے یو آئی اور سب ممبران نے اس قانون سازی کی مخالفت کی، ریکوڈک قانون سازی کے بعد پارٹی کا اجلاس بلایا ہے،ایک آدھ دن میں اچھا فیصلہ کریں گے۔
واضع رہے کہ ریکوڈک سے متعلق قانون سازی کا معاملہ سردار اختر مینگل نے پارٹی کی سینئر قیادت کا مشاورتی اجلاس کل طلب کرلیاہے۔
تفصیلات کے مطابق مشاورتی اجلاس میں ریکوڈک بل منظور ہونے اور تحفظات نظر انداز کرنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی حکومت سے علیحد گی پر بھی مشاورت ہوگی۔
سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ سینیٹ میں بل پیش کیا گیا سینیٹرز کو بل کا پتہ تک نہیں۔اپنے مفادات کیلئے راتوں رات بل منظور کرائے جاتے ہیں۔ اپنے مفادات کیلئے راتوں رات عدالتیں کھلوائی جاتی ہیں۔