بلوچستان ہائی کورٹ نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونینِ خصوصی کا تعیناتی ایکٹ 2018 کالعدم قرار دے دیا۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل 2 رکنی بینش نے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان کے 6 خصوصی معاونین کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دے دیا۔
خیال رہے کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ جام کمال نے آغا شکیل درانی، نوابزادہ ارباب عمر فاروق، اعجاز سنجرانی، کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، رامین محمد حسانی اور حسنین ہاشمی کو اپنا معانِ خصوصی تعینات کیا تھا۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے مذکورہ بالا حکم ایڈووکیٹ علی احمد کاکڑ کی دائر کردہ درخواست پر سنایا۔
اس کے ساتھ عدالت نے وزیراعلیٰ کے معاونینِ خصوصی کو ان کی تنخواہوں کے سوا حکومت کی جانب سے ملنے والی تمام مراعات واپس کرنے کا بھی حکم دیا۔

درخواست میں ایڈووکیٹ علی احمد کاکڑ نے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اقدام ملکی قانون سے متصادم ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کی دفعہ 130 کی شق 11 کے تحت وزرائے اعلیٰ کو صرف مشیر مقعع کرنے کا اختیار ہے اس لیے وزیراعلیٰ کے معاونینِ خصوصی کا تعیناتی ایکٹ 2018 آئینی ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے مذکورہ درخواست پر دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد 2 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا۔