نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنمااور پاکستان کے قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سویلین بالادستی کی موجودہ صورتحال پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ دور حکومت سے بھی بدتر ہے۔
ایوان کی کارروائی کے آغاز قبائلی علاقوں سے منتخب رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین محسن داوڑ نے ایوان کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کانفرنس کے لیے تاجکستان روانگی سے روکنے کے واقعے سے آگاہ کیا۔
رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ ایف آئی اے حکام نے کوئی ٹھوس وجہ بتائے بغیر کہا کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے اعلیٰ افسران کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
بیرون ملک روانگی سے روکنے کے ذمہ دار شخص کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن داوڑ نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال کیے جانے والے لفظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شاید انہیں حولدار نے ایسا کرنے کے احکامات دیے تھے۔
رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ ہم نے اختیارات، مراعات اور عہدے حاصل کرنے کے لیے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہیں کی تھی، حالانکہ اُس وقت عمران خان تو ہمیں مزید عہدوں کی پیشکش کر رہے تھے، ہم نے عدم اعتماد ووٹنگ کی اس لیے حمایت کی تھی کیونکہ عمران خان سویلین بالادستی کو پاؤں تلے روندتے ہوئے عوامی طاقت کو کچلنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سابقہ حکومت کو اس لیے نہیں ہٹایا تھا کہ نئی حکومت بھی وہی پالیسیاں اپنائے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما روحیل اصغر اور مفتی شکور نے بھی محسن داوڑ کی حمایت کی تاہم بعدازاں اسپیکر نے یہ معاملہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔