80 سے زائد افغان اور بین الاقوامی تنظیموں نے افغانستان میں مکمل اور فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ متعدد بحرانوں کے شکار افغانستان میں کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں۔
اس مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان کو کورونا وائرس سے بدترین متاثرہ ممالک میں سے ایک بننے کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر صحت کے بحران میں شدت پیدا ہو گی۔
سرکاری طور پر افغانستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہے لیکن جانچ او علاج کے لیے دستیاب صلاحیت اور وسائل بھی کم ہیں اور یہ مہلک وائرس ایسے وقت میں پھیل رہا ہے جب طالبان کے حملوں میں شدت آرہی ہے اور حال ہی میں کابل میں طویل عرصے سے جاری سیاسی لڑائی کے سبب امریکہ نے 1 ارب ڈالر کی امداد کم کر دی ہے۔
افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور شہریوں کے پاس اپنی حفاظت کے وسائل انتہائی کم ہیں۔
حال ہی میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد پڑوسی ملک ایران سے وطن واپس آئے ہیں، جو کہ اس خطے میں کورونا وائرس کا مرکز ہے، اور ان میں سے زیادہ تر کا ٹیسٹ نہیں کیا جا سکا۔