امریکا جلد دوبارہ کھل جائیگا، انفیکشن کی رفتار مدھم ہو رہی ہے، ٹرمپ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بریفنگ کے دوران امریکہ میں وبا سے نمٹنے کے اپنے طریقے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے جو کچھ کیا وہ ٹھیک تھا۔‘

ان کا کہنا تھا اگر وہ ملک میں جلدی لاک ڈاو¿ن کر دیتے تب بھی ان پر تنقید کی جاتی۔ انھوں نے صورتحال کا ذمہ دار آلات کی کمی اور 50 ریاستوں کے گورنرز کو ٹھہرا دیا۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک ملک میں 30 لاکھ افراد کی ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق اس وقت ملک میں 115000 ٹیسٹ یومیہ کیے جا رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ جلد ہے نئے اور اہم رہنما اصول مرتب کر لے کی جو گورنرز کو دیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اپنی اپنی ریاست میں حفاظت کے ساتھ لاک ڈاو¿ن ختم کر سکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاو¿س کی جانب سے نئے رہنما اصول ’چند دنوں میں جاری کر دیے جائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا یہ نیا منصوبہ ’امریکہ کے لوگوں کو وہ اعتماد دے گا جو انہیں پھر سے معمولات ِ زندگی شروع کرنے کے لیے اعتماد فراہم کرنے گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س میں جاری بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ملک میں انفیکشن کے پھیلنے کی رفتار مدھم ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران ملک بھر میں نئے کیسز کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’لوگ ہسپتال کم آ رہے ہیں خصوصا زیادہ متاثر علاقوں جیسے کے نیویارک میں، نیوجرسی، مشیگن اور لوئیزیانا میں۔ اور ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ امریکی رہنما اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر آپ چارٹس کو دیکھیں تو ابتدائی ماڈلز کے مطابق پیش گوئی تھی کہ ایک لاکھ تک لوگ ہوں گے لیکن امید ہے کہ ان اعداد سے کافی نیچے جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے جارحانہ حکمت عملی کام کر رہی ہے۔‘

Share This Article
Leave a Comment