کوئٹہ: سی ٹی ڈی کا پھر سے 2 آزادی پسندوں کی گرفتاری کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بدنام زمانہ فورس کاؤنٹرٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پھر سے آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے 2سرمچاروں کی گرفتاری اور ان سے اسلحہ برآمدکرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حراست میں لئے گئے دونوں افرادکی شناخت عبدالمنان اور سرفراز احمدکے ناموں سے کی گئی ہے۔

ترجمان سی ٹی ڈی بلوچستان نے اپنے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کو سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دو مشتبہ افراد عبدالمنان اور سرفراز احمد قلات کے پہاڑی علاقے شوری سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کی غرض سے کوئٹہ آرہے ہیں جس پر کوئٹہ سبی روڈ پر درخشاں ناکے کے قریب ناکہ بندی کر کے مشکوک افراد کی تلاشی کا عمل شروع کیا گیا۔

اس دوران دو نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر سی ٹی ڈی حکام نے انکا تعقب کر تے ہوئے دونوں افراد کو گرفتار کر کے انکے قبضے سے پانچ ہینڈ گرینڈ، 1کلو 200گرام سی فور دھماکہ خیز مواد، دو کلو گرام دھماکہ خیز مواد، چار الیکٹرک ڈیٹو نیٹر، ایک ریموٹ کنٹرول کٹ، ایک ایلفا فائر سسٹم برآمد کرلیا۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ دونو افراد بی ایل اے کے کمانڈر صدیق قلندرانی عرف خالد شریف کے قریبی ساتھی ہیں۔ دونوں ملزمان قلات کے علاقے شوری کے پہاڑوں سے سیکورٹی فورسز پر حملوں کے لئے کوئٹہ پہنچے تھے۔

ترجمان کے دعوے کے مطابق ابتدائی تفتیش میں دونوں ملزمان نے نوید احمد عرف کے ڈی اور صدیق قلندرانی عرف خالد شریف کی ایماء پر خضدار اور گردونواح میں متعدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

دعوے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے نے آغا شکیل درانی سمیت خضدار سے تعلق رکھنے والے ریاست کے حامی معتبررین کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنا رکھا تھا۔

ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

واضع رہے کہ گذشتہ دوتین دنوں سے سی ٹی ڈی مسلسل آزادی پسندوں کی اسلحہ سمیت گرفتاری کا دعویٰ کر رہے ہیں۔لیکن دوسری جانب آزادی پسند ان دعوؤں کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کی حقیقت سب کے سامنے عیاں ہے کہ وہ کس طرح بے گناہ افراد جو پہلے سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہیں انہیں جعلی مقابلوں میں یا تو قتل کردیا جاتا ہے یا ان کی گرفتاری ظاہر کرکے انہیں دہشت گرد قرار دیکر ان پر سنگین نوعیت کے الزامات لگاکرجیل میں ڈالا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment