بولان میں خواتین کی گرفتاری پر بی این پی و حکومت بلوچستان مابین نوک جھونک

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ووفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آغا حسن بلوچ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بولان واقعے پر اختر مینگل سے مسنگ پرسنز تنظیم کے ماما قدیر نے رابطہ کیا۔ ماما قدیر نے بتایا کہ خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اختر مینگل نے واقعے پر آئی جی سے رابطہ کیا، قائم مقام آئی جی سے ملاقات کی گئی۔ مشیر داخلہ نے غلط بیانی کی میرے ساتھ بازیاب لوگ نہیں لاپتہ افراد کے لواحقین تھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار ضیا لانگو جیسے سیاستدان ہیں جو حقائق مسخ کرتے ہیں۔ مشرف سے دور سے آج تک یہی کہا گیا کہ دو چار افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کو آج تک سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ حکومت میں رہ کر ممکن نہیں کہ چادر و چار دیواری کی پامالی دیکھیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو اہم مسائل سے آگاہ کردیا ہے۔ وزیراعظم سے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں مدد کریں۔ ماورائے قانون و عدالت گرفتاریاں ہوں تو جمہوری و قانونی طریقے سے آواز اٹھائیں گے۔ بلوچستان میں چند جماعتیں ہیں جو آئین قانون اور پارلیمنٹ پر یقین رکھتی ہیں۔

اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری ورکن بلوچستان اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے بلوچستان کے مشیر داخلہ کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ضیا لانگوکی پریس کانفرنس کو اسکرپٹڈ تھی۔ مشیر داخلہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے بعد اب گرفتارکرنے کا شوق بھی پورا کرلیں۔

شکیلہ نوید دہوار نے مزید کہا کہ مشیر داخلہ میر ضیالانگو نے اپنی ناکامی اور نالائقی پر پردہ ڈالتے ہوئے بلوچستان کی قومی نمائندہ جماعت کی قیادت پر الزامات لگاتے ہوئے میڈیا کے سامنے آکر بلوچستان کو پسماندہ رکھنے والوں کا اسکرپٹ پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے کہا کہ مشیر داخلہ نے جن کی ایمائپر پریس کانفرنس کی ہے ان کرداروں نے ہی بلوچستان میں نفرتوں کے بیج بوئے ہیں ایسے اقدامات سے ان نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر مینگل اور وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ کو گرفتار کرنے کا مشیر داخلہ کا بیان احمقانہ ہے، پارٹی قیادت نے پہلے بھی نہ صرف بلوچستان کے اجتماعی قومی حقوق کیلئے قید وبند کی اذیتیں برداشت کی ہیں بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ مشیر داخلہ اپنی پریس کانفرنس میں لگائے گئے، الزامات پر پارٹی سربراہ سردار اختر مینگل سے معافی مانگیں۔

واضع رہے کہ بلوچستان کی کٹھ پتلی مشیر داخلہ ضیااللہ لانگو نے گذشتہ روز ڈی آئی جی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بولان سے فورسز ہاتھوں خواتین وبچوں غیرقانونی حراست و گمشدگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خواتین قتل کے مقدمے میں نامزد ہیں جنہیں حراست میں لیا گیاہے اور وہ اب ضمانت پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے بولان واقعہ کو غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ مقدمے میں نامزد خواتین کو ضمانت ہونے کے بعد رہا کردیاگیا ہے۔ بولان کے علاقے سے لاپتہ ہونے والی خواتین کے دوسرے واقعے کا کسی کو پتہ نہیں ان کو کون منظر عام پر لایااور کہاکہ اس کا جواب بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سے پوچھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل اپنے سیاسی مفادات کیلئے عوام کو استعمال نہ کریں بولان سے خواتین کو لاپتہ کرنے اور بازیابی کی تحقیقات کی جارہی ہیں منفی پروپیگنڈہ بیرون ملک سے کیا جارہا ہے ملک دشمن سرگرمیاں پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی اے تحقیقات کررہی ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین کو لاپتہ کرنے سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ 28 اکتوبر کو ڈاکٹر نسیم نامی شخص نے ٹوئٹ کیا کہ بولان سے کچھ خواتین کو اٹھایا گیا ہے۔ کسی قانون نافذ کرنیوالے ادارے کو اجازت نہیں کہ خواتین کو گرفتار کریں۔ 15 اکتوبر کو ودود ساتکزئی نامی شخص نے اپنے بہنوئی کو قتل کیا۔ قتل کے مقدمے میں خواتین بھی نامزد تھیں۔ خواتین کو قتل کے مقدمے میں نامزد ہونے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔خواتین کو تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ حکومت تخریب کاری کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی مذاکرات صرف پرامن رہنے والے محب وطن لوگوں سے ہونگے ہرنائی میں کالعدم تنظیم اپنا نام بنانے کیلئے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے تاکہ وہ اپنے بیرونی آقا?ں کو خوش کرکے اپنے حاصل ہونے والے وسائل میں اضافہ کرواسکے

انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کواداروں اور فورسز کے خلاف مہم چلانے سے باز رہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن خواتین کو گزشتہ روز آئی جی پولیس بلوچستان سے بی این پی کے وفاقی وزیرآغا حسن بلوچ نے ملاقات کرکے باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ انہیں لاپتہ کیا گیا تھا اور منظر عام پر لائے ہیں اس حوالے سے سرداراختر مینگل اور آغا حسن بلوچ ہی قوم کو حقیقت بتا سکتے ہیں کہ انہیں کس نے لاپتہ کیا تھااوروہ کہاں سے منظر عام پر لائے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment