بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4815 دن مکمل ہوگئے۔
بی این پی مینگل کے مرکزی فنانس سیکرٹری اور وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ سمیت دیگر مرد اور خواتین نے کثیر تعداد میں کیمپ میں آکر لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے سیاہ ظلمت کی شب طویل ضرور ہے لیکن امید کی کرن آئے گی اور اس کالی رات کو لپیٹ لے گی، ریاستی ظلم کے اوراق بلوچ نوجوانوں کے خون کے چھینٹوں سے سرخ ہیں، بولان میں خونریز آپریشن گزشتہ دس دنوں سے جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ سادہ لوح دوست و ساتھی بلوچستان میں پاکستان فوج کی پاکستانی آئین و عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالیوں بمعہ جنگی جرائم کو قبول و اس پر خاموشی اختیار کرکے الٹا مجرم فوج اور شریکِ جرم برسرِاقتدارسیاسی پارٹیوں و وُزرا کو کریڈٹ دے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ بولان سے13 خواتین اوربچیوں کو پاکستان کے آئین کی کس شق اور کس عالمی قانون کے تحت آرمی نے ماروائے عدالت اغواکرکے شدید ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔
سوال یہ ہے کہ بولان آپریشن کے دوران چرواہا محمد غوث ولد افضل خان مری سمیت متعدد چرواہوں کے کس پاکستان کی آئین کے شق اور کونسے عالمی قوانین کے تحت شہید کیاگیا۔گھر بار و مال مویشی مکمل لوٹ کر دیہاتوں کے دیہات پاکستانی آئین کی کس شق اور کونسے عالمی قوانین کے مطابق جلائے گئے۔
میرے اپنے ہی دوستوں،برسراقتدارسیاسی پارٹیوں اور وزرا سے گزارش ہے کہ اگر آپ پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کو روک نہیں سکتے۔اگر خوف اورکرسی جانیکی خوف سے فوج کے بلوچستان کے اندر انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر نہیں کرسکتے تو کم ازکم فوج کو فیس سیونگ مت دیں۔آپ بچیوں کی بازیابی یابے گناہ فرزندوں کی لاشوں کی حوالگی کو کچھ اس طرح ظاہر کررہے ہیں کہ جیسیآپ نیکوئی کارنامہِ عظیم سرانجام دیا ہو۔