عمران خان پرقاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج، آئی ایس آئی میجر کا نام ہٹادیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر پولیس نے درج کر لی ہے۔

ایف آئی آر کا اندراج عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کے واقعے کے کئی روز بعد ہوا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت پیر کو سپریم کورٹ میں پانچ رکنی بینچ نے شروع کی تو چیف جسٹس نے پنجاب کی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) فیصل شاہ کار کو روسٹرم پر بلا لیا۔ آئی جی پنجاب سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق آئی پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے احکامات ملے تھے کہ اس معاملے کا مقدمہ درج نہیں کرنا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مؤقف مختلف ہو تب بھی پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

ایف آئی آر پولیس کے سب انسپکٹر عامر شہزاد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے اور اس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ کنٹینر کے بائیں جانب سے فائرنگ کی گئی جس میں نوید ولد بشیر کو فائرنگ کا ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دیگر قائدین کے ساتھ کنٹینر پر اللّٰہ والا چوک سے وزیر آباد آ رہے تھے کہ تقریباً شام 4 بجیکے قریب ملزم نوید نے کنٹینر کے بائیں جانب سے پستول سے فائرنگ کردی۔ فائرنگ سے جلوس میں شامل معظم گولی لگنے سیدم توڑ گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق کنٹینر پر سوار چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان زخمی ہوئے۔

ایف آئی آر میں محمد احمد چٹھہ، حمزہ الطاف سمیت 11 معلوم اور کچھ نامعلوم زخمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق جلوس میں شامل ایک کارکن حسن ابتسام نے فائرنگ کرنے والیکو پکڑنیکی کوشش کی جس وجہ سے ملزم نوید مزید فائرنگ نہ کر سکا۔

ایف آئی آر میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ عمران خان بعد از طبی امداد لاہور روانہ ہو گئے۔

یاد رہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کے معاملے پر پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کئی دن سے تنازع چل رہا تھا۔ عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ ثنااللہ اور آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل فیصل نصیر کو نامزد کیا تھا۔

درج کی جانے والی ایف آئی آر میں عمران خان کے نامزد کردہ کسی بھی عہدے دار کا نام شامل نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما فواد چوہدری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایف آئی آر میں اگر چیئرمین عمران خان کے دیے ہوئے تینوں نام شامل نہ ہوئے تو وہ ہمیں قبول نہیں ہو گی اور اس کی حیثیت ہمارے لیے کاغذ کا ایک وقعت ٹکڑا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment