بلوچستان کے علاقے بولان سے گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کی جارحیت کے دوران حراست میں لیے گئے خواتین اور شیر خوار بچوں کو آج سانگان میں رہا کر دیاگیاہے۔
اس کی تصدیق بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کی سرگرم و فعال تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کردی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک مختصر پوسٹ میں تنظیم کا کہنا تھاکہ بولان سے لاپتہ بلوچ خواتین اور بچے بازیاب ہوگئے ہیں۔ان خواتین اور بچوں کی بازیابی کے بعد کل کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاج کو کینسل کردیاگیا۔
واضع رہے کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ ہفتے درجنوں خواتین و بچوں کو بولان کے علاقے اوچ کمان و گردنواح کے علاقوں میں زیرحراست رکھا ہوا تھا اور کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی اطلاعات نہیں تھیں۔زیرحراست رکھے گئے ان خواتین وبچوں میں سے تیر ہ کی شناخت زرگل مری، حنیفہ مری، در خاتون مری، ماہیسو سمالانی، گل بی بی سمالانی، سمو سمالانی، زر بخت سمالانی، بانی سمالانی، سمیدہ سمالانی، فریدہ سمالانی، راجی سمالانی اور چار سال سے لاپتہ رکھیہ سمالانی کی اہلیہ مہنا سمالی اور بیٹا کلیم سمالانی سے کے ناموں سے ہواتھا۔