تین لوگوں نے مجھے مارنے کا منصوبہ بنایاہے، عمران خان کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گولی لگنے باعث زخمی ہونے کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اُن پر دو مختلف سمتوں سے دو برسٹ فائر کیے گئے اور وہ زخمی ہو کر گر گئے تو ممکنہ طور پر حملہ آور سمجھے کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ جنرل فیصل نصیر کی ایما پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل، صحافی جمیل فاروقی اور سینیٹر اعظم سواتی پر تشدد کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ فوج پر تنقید کرنے کی وجہ سے اعظم سواتی پر تشدد کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ وزیر آباد سے ایک دن قبل تین لوگوں نے اُنھیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ تین لوگ ان چار لوگوں سے مختلف ہیں جن کی وہ پہلے بات کر چکے ہیں۔

انھوں نے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنااللہ اور پھر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا نام لیا۔ انھوں نے تیسرا نام میجر جنرل فیصل نصیر کا لیا جو آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انھوں نے ویڈیو میں چار لوگوں کے نام لے کر محفوظ کروا رکھی ہے جنھوں نے ان کے مطابق انھیں قتل کروانے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اُنھیں کچھ ہوا تو یہ ویڈیو ریلیز کی جائے گی۔

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر جنرل فیصل نصیر کا نام لیتے ہوئے ان پر صحافیوں کو ہراساں کرنے اور ان پر حملوں کے الزامات عائد کیے۔

عمران خان نے ارشد شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں، ارشد شریف کے گھر والے اور ان کے ساتھی صحافی جانتے ہیں کہ ارشد شریف کے پیچھے کون پڑا ہوا تھا اور کیوں اُنھیں ملک سے باہر جانا پڑا۔

عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت کے پاس 40 ہزار عطیہ کنندگان کا ڈیٹا ہے مگر جواب صرف انہی سے مانگا جا رہا ہے، نہ کہ ان جماعتوں سے جن کے پاس جواب ہی نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وہ عوام سے پیسے اکٹھے کرتے ہیں اس لیے عوام کے مفادات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایف آئی اے ان کی جماعت کو نقصان پہنچ رہی ہے تاکہ عطیہ کنندگان ڈر جائیں۔

عمران خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد میں میجر جنرل فیصل نصیر کی تعیناتی ہوئی۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کی طرف سے پی ٹی آئی کے حامیوں اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا گیا اور بلیک میلنگ کی گئی۔

عمران خان نے 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دو پارٹیاں‘ اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں نہیں لائیں کیونکہ انھوں نے دھاندلی کرنی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ ’ہینڈلرز‘ نے بھی ای وی ایم مشینوں کی مخالفت کی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے دور میں اپوزیشن نے تین لانگ مارچز کیے اور اُنھیں اجازت دی گئی تھی تو اُنھوں نے بھی سوچا تھا کہ ان کے احتجاج میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ان کے لیے احتجاج کرنے والوں پر شیلنگ کی گئی اور ڈنڈے مارے گئے اور سوچا گیا کہ ’ممی ڈیڈی‘ پارٹی ہے تو یہ ختم ہو جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ زمینی حالات کیا ہوتے ہیں۔

عمران خان نے گفتگو کی شروعات نو اپریل کو اپنے ہٹائے جانے سے کچھ پہلے اور بعد کے واقعات سے کی۔

عمران خان نے کہا کہ سوچا گیا تھا کہ اُنھیں نکالا گیا تو لوگ مٹھائیاں بانٹیں گے مگر اس مرتبہ یہ نہیں ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو دھچکا لگا کہ قوم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ لوگ 30 سال سے چوریاں کرنے والوں کے ساتھ نہیں جانا چاہتے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment