خاران: فورسز ہاتھوں ایک اور نوجوان جبری طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران سے ایک اور نوجوان پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک اور نوجوان حراست بعد لاپتہ ہوگئی۔

لاپتہ کئے گئے نوجوان کی شناخت اعجاب یلانزئی کے نام سے ہوگئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی فورسز نے 26 اکتوبر کو خاران کے رہائشی نوجوان اعجاب یلانزئی کو فون کرکے کیمپ بلایا اور وہاں اسے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق عجاب یلانزئی 23 اکتوبر کو لاپتہ ہونے والے شفقت یلانزئی، جابر یلانزئی اور نجیب یلانزئی کے رشتہ دار ہے۔

26 اکتوبر کو جابر اور نجیب یلانزئی کو رہا کردیا گیا جبکہ شفقت یلانزئی فورسز کی قید میں تھا جسے آج سی ٹی ڈی حکام نے منظرعام پر لاتے ہوئے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ محمد نور مسکانزئی کے قتل میں ملوث تھا اور اس کا تعلق بی ایل اے سے ہے۔

خاران میں محمد نور مسکانزئی واقعے کے بعد سے اب تک 6 نوجوان جبراً اٹھائے جاچکے ہیں جن میں سے دو بازیاب ہوئے ہیں تاہم 4 افراد پرویز بادینی، یوسف بادینی، شفقت یلانزئی اور عجاب یلانزئی تاحال حراست میں ہیں۔

خدشہ ہے کہ ریاستی ادارے شفقت یلانزئی کی طرح دیگر لاپتہ نوجوانوں پر بھی جھوٹے الزامات لگاکر انہیں پھنسایا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment