بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے دھولوائی میں مری قبائل سے تعلق رکھنے والے رند ھاں مری نے غربت کی وجہ سے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔
رندھاں مری کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا جنہوں نے دو شادیاں کر رکھی تھیں جن کے 14 بچے ہیں جو عرصہ دراز سے بارکھان کے علاقے دھولوائی میں رہائش پذیر تھے جہاں وہ کھیتی باڑی کرکے اپنے بچوں کی کفالت کیا کرتا تھا مگر حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ان کی چھت چھیننے کے ساتھ ان کاروزگار کا واحد ذریعہ فصلیں بھی تباہ کردئیے جو اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتے نہیں دیکھ سکا اور بلآخر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی۔
واقعے کو لیکر کوہلو سے تعلق رکھنے والے عوامی حلقوں کی جانب سے بارکھان سے منتخب ہونے والے وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ رندھاں مری کی موت بارکھان سے سلیکٹ ہونے والے وزیر سمیت ہمارے بے حس معاشرے کے لئے ایک زور دار طمانچہ ہے۔
عوامی حلقوں کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ گھرانوں کیلئے راشن، ٹینٹ سمیت اربوں روپے کی فنڈنگ ہوئی مگر ان سے امیروں نے اپنی تجوریاں اور گھر بھر دیئے، مگر رندھاں جیسے متاثرہ غریبوں کو ایک ٹینٹ تک فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین خودکشیوں پر مجبور ہیں۔
انہوں نے شہباز شریف، قدووس بزنجو اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مرحوم رندھاں مری کے اہلخانہ کو فوری امدادی ریلیف فراہم کیا جائے۔
دوسری جانب کوئٹہ میں چشمہ اچوزئی کے علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چشمہ اچوزئی کے علاقے میں کلی بڑیچان میں مٹی کا تودہ گرنے سے نیاز محمد نامی شخص اس کے نیچے دب کر ہلاک ہوگیا۔
لاش نکال کر ہسپتال منتقل کر دی گئی۔
ضروری کارروائی کے بعد ورثاکے حوالے کر دی گئی۔