عمران خان نے جنرل باجوہ کو غیرمعینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی،ڈی جی آئی ایس آئی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستانی فوج اوراس کے لے پالک”عمران خان“میں ٹھن گئی، اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

پاکستانی فوج کے اعلیٰ جرنیلوں نے فوج اور ریاست پاکستان پر راج کرنے کیلئے ”عمران خان“کی شکل میں ایک منصوبہ لانچ کیا جس کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں کودیوار پر لگاکر غیرموثر کردیا۔نام نہاد کرپشن کے نام پرسیاسی لیڈران کونا اہل قراردیکرجیل وزندانوں میں و ڈالااور 2018کے الیکشن میں عوام کی ووٹ کو چوری کرکے عمران خان کو حکومت سونپ دی جو ساڈھے تین سال بھی نہ چل سکی اور اس نے کرپشن کے گذشتہ ستر سالوں کے تمام ریکارڈتو ڑ دیئے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس مارچ کے مہینے میں فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار اور ڈی جی آئی ایس آئی نے سائفر کے معاملے، اس پر تحریک انصاف کی جانب سے ’گمراہ کن‘ سیاسی بیانیہ ترتیب دینے اور ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق واقعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’مارچ میں اُن کو غیر معینہ مدت کی توسیع کی میرے سامنے پیشکش کی گئی۔ انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا۔‘

ڈی جی آئی ایس آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل مطمئن ہے کہ آپ کا آرمی چیف غدار ہے تو ماضی میں اُن کی اتنی تعریف کیوں کی گئی اور یہ پیشکش کیوں کی گئی کہ اگر پوری زندگی بھی اس عہدے پر رہنا چاہتے ہیں تو رہ لیں۔‘

انھوں نے کہا ’اب بھی آپ چھپ کر اُن سے کیوں ملتے ہیں؟ رات کو آپ ہم سے غیر آئینی خواہشات کا اظہار کریں، وہ آپ کا حق ہے، لیکن پھر دن کی روشنی میں جو کہہ رہے ہیں وہ نا کہیں۔ آپ کی گفتگو میں کھلا تضاد ہے۔‘

’غدار، نیوٹرل کا بیانیہ اس لیا بنایا گیا کیونکہ فوج نے غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا‘

اپنی بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’میرا منصب اور میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے اور میری ایجنسی کو پس منظر میں رہنا ہے۔ لیکن آج میں اپنے ادارے اور ایجنسی کے لیے آیا ہوں۔‘

’جب ہمارے لوگوں کو جھوٹ کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے، تو ہم چپ نہیں رہ سکتے۔ جب اتنی آسانی سے جھوٹ بولا جائے کہ ملک میں فساد کا خطرہ ہو، تو ایک جانب سے طویل خاموشی نہیں رکھی جا سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ آپ بنا شواہد کسی کو میر جعفر کہیں تو اس کی مذمت ہونی چاہیے۔ ’یہ نظریہ کیوں بنایا گیا؟ غدار، نیوٹرل کہنا اس لیے نہیں کہ کسی نے غداری کی یا کسی نے غیر قانونی کام کیا۔ بلکہ اس لیے کہ غیر قانونی کام کرنے سے انکار کیا۔گذشتہ سال ادارے نے فیصلہ کیا کہ ہم سیاست سے باہر نکل جائیں۔ یہ صرف آرمی چیف کا فیصلہ نہیں تھا۔ اس پر کافی بحث ہوئی، ہم نے یہ فیصلہ ملک کے مفاد میں کیا۔‘

ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’ہم پر پریشر ڈالا گیا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ جو بنیادی فیصلہ کیا ہے اس سے نہیں ہٹیں گے۔ جنرل باجوہ صاحب چاہتے تو آخری وقت بہت سہولت سے گزار سکتے تھے۔ لیکن انھوں نے ملک کے حق میں، ادارے کے حق میں فیصلہ کیا۔ ان پر، ان کے بچوں پر غلیظ تنقید کی گئی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ جب وہ جائیں تو ایک ایسا ادارہ چھوڑ کر جائیں جس کا آئینی کردار ہو۔

واضع رہے کہ پاکستانی فوج کے تما م ریٹائرڈ جرنیل سمیت بعض حاضر سروس جرنیل وافسران عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی میں شامل ہیں جس کی وجہ سے عمران خان فوج کیخلاف کسی بھی قسم کے بیانیے پر سزاسے مبرا ہے اور اسی لئے وہ کھل کر تنقید کرتے ہیں لیکن کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔فوج کے فرنٹ لائن کے چند جرنیل شاید عمران خان کو برداشت نہ کرسکیں لیکن وہ ان کے خلاف کسی قسم کی سخت قدم اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ فوج میں بغاوت کا خدشہ ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment