ریکوڈک صدارتی ریفرنس میں بیرک گولڈ،بلوچستان حکومت و دیگر کو نوٹسز جاری

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کے سپریم کورٹ نے بلوچستان میں ریکوڈک معاہدے پر صدارتی ریفرنس پر واضح کیا کہ ایسی مثال قائم نہیں کرسکتے کہ عدالت کے حمتی فیصلے کا جائزہ لیاجائے اور اس کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سر براہی میں سپریم کورٹ 5 رکنی بنچ نے ریکوڈک معاہدے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی جہاں چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی مثال قائم نہیں کر سکتے کہ صدارتی ریفرنس پر عدالتی فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے حکومت بلوچستان، بیرک گولڈ انٹرنیشنل اور پاکستان بار کونسل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

دوران سماعت عدالت نے کہا کہ فریقین ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالتی معاونت کے لیے سینیئر وکلا کے نام تجویز کریں۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تمام فریقین کو فوری طور پر آگاہ کرنے کی بھی ہدایت کردی تاہم، صدارتی ریفرنس پر سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ ریکوڈک کیس میں اب تک کے معاہدوں اور معاملات کی تفصیلات پیش کروں گا۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے 1993 میں چاغی ہل جوائنٹ وینچر معاہدہ کیا تھا، 2000 میں ٹیتھیان کاپر کمپنی نے 24 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

انہوں نے کہا کہ سونے کی کان کنی کے معاہدے کے خلاف 2006 میں بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست درج ہوئی جو خارج ہوئی تھی اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے 2013 میں چاغی ہل جوائنٹ وینچر غیر قانونی قرار دیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں عالمی عدالتوں سے رجوع کیا گیا، عالمی عدالتوں نے پاکستان پر جرمانہ عائد کیا جو 9 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کو 25 فیصد، بیرک گولڈ کمپنی کو 50 فیصد حصہ ملے گا۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ حکومت بلوچستان کو ریکوڈک معاہدے سے کیا حصہ ملے گا، بیرک گولڈ کمپنی کو 50 فیصد حصہ کیوں مل رہا ہے اور ریکوڈک اصل میں ملکیت کس کی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو 25 فیصد حصہ مل رہا ہے جبکہ اس کی ادائیگی وفاقی حکومت کر رہی ہے اور ریکوڈک معاہدے سے 104 ارب ڈالر کا منافع ہوگا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاق اور حکومت بلوچستان کو ریکوڈک معاہدے سے 62 فیصد منافع ملے گا، ٹیتھیان کاپر کمپنی کو اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لیے ٹھوس یقین دہانی چاہیے، اگر عدالت اجازت نہیں دیتی تو پاکستان کو 9 ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ حکومت پاکستان 9 ارب ڈالر کہاں سے ادا کرے گی، جس پر پہلے ہی پاکستان پی آئی اے کیس میں روزویلٹ ہوٹل بچا رہا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اگر 9 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑی تو پاکستان میں کوئی بیرون ملک سے سرمایہ کاری نہیں ہو سکے گی۔

خیال رہے کہ 18 اکتوبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارش پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریکوڈک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔

صدر عارف علوی کی جانب سے بھیجے گئے ریکوڈک ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے غیر ملکی کمپنی کے ساتھ معاہدے سے متعلق رائے لی جائے گی۔

اس سے قبل 5 اکتوبر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ریکوڈک منصوبے پر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی تھی۔

یاد رہے کہ کینیڈا کی مائننگ فرم بیرک گولڈ کارپوریشن کو توقع ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، بلوچستان میں ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے میں عالمی ثالثی کے تحت 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راستہ بناتے ہوئے عدالت سے باہر کیے گئے اس کے 6 ارب ڈالر کے تصفیے کی منظوری دے گی۔

واضح رہے کہ 21 مارچ 2022 کو پاکستان نے غیر ملکی فرم کے ساتھ عدالت سے باہر معاہدہ کیا تھا، معاہدے کے تحت فرم نے 11 ارب ڈالر کے جرمانہ معاف کرنے اور 2011 سے رکے ہوئے کان کنی کے منصوبے کو بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

19 جولائی 2022 کو کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستانوقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کارپوریشن نے 14 اگست سے ریکوڈک گولڈ پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment