پاکستا ن میں قبائلی علاقوں کے فنڈز کا بڑا حصہ سیکیورٹی کیلئے مختص

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان میںرواں مالی سال کے اختتامی مرحلے میں حکومت نے قبائلی علاقوں کے عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پی) کے ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص فنڈز میں سے ایک بڑا حصہ منتقل کرکے سیکیورٹی کے لیے مختص کردیا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق وفاقی حکومت کے فیصلے سے سیکیورٹی کے لیے مختص فنڈ 67 فیصد یعنی 53 ارب روپے بڑھ گیا۔

حکومت نے دیگر اسکیموں سے 6 ارب روپے پارلیمنٹیرین کی اسکیموں کے لیے منتقل کردیے جس کے بعد پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کے تحت ان اسکیموں کے فنڈز میں 25 فیصد یعنی 30 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔

گزشتہ برس جون میں پارلیمنٹ کے منظور کردہ بجٹ میں ٹی ڈی پیز اور سیکیورٹی کے لیے الگ الگ 32 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

وزارت منصوبہ بندی اور ترقیاتی وزارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 3 اپریل تک منصوبہ بندی کمیشن کے کاغذات میں دونوں رقوم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جبکہ 38 ارب 50 کروڑ روپے پہلے ہی سیکیورٹی پر خرچ کیے جا چکے تھے۔

جمعہ کو پلاننگ کمیشن نے پبلک سیکٹر ڈولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 20-2019 کے لیے مختص رقوم سے معتلق نوٹی فیکشن جاری کیا جس میں سیکیورٹی بڑھانے کے لیے مختص رقم 32 ارب 50 کروڑ روپے بڑھا کر 53 ارب روپے کردی گئی۔

اس کے ساتھ ہی نوٹی فیکشن میں کہا گیا کہ ٹی ڈی پیز کے لیے ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص رقم 32 ارب 50 کروڑ روپےسے کم کرکے 17 ارب روپے کردی گئی جسے پارلیمنٹ نے منظور کیا۔

کمیشن نے کہا کہ 10 اپریل تک ٹی ڈی پیز کو مجموعی طور پر 5 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری سے رقم کی منتقلی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن سیکیورٹی میں اضافے کے لیے مالی سال کے پہلے 45 دنوں میں تقریباً 27 ارب روپے ادا کرچکی تھی جبکہ باقی 11 ارب روپے دو اقساط میں تقسیم کیے جانے تھے۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ نے وائرس کی وبا کی وجہ سے پی ایس ڈی پی کے لیے فنڈز کے اجراکی تاریخ 15 مئی سے 25 مئی تک توسیع کردی۔

وزارت خزانہ نے مختلف وزارتوں اور ایجنسیوں کے غیر استعمال شدہ فنڈز کے حوالے سے بھی تاریخ میں 15 دن کی توسیع کردی جو 30 اپریل سے 15 مئی تک ہوگئی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے حلقوں میں ترقیاتی اسکیموں کے ضمن میں ناقص کارکردگی پر پارلیمنٹیرین کی تنقید کا نشانہ بن چکی ہے۔

وفاقی حکومت کے پروگرام کے تحت ٹی ڈی پیز کے لیے اب تک صرف 5 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، جو کل رقم کا محض 15.4 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم کے یوتھ اینڈ ہنرمند پروگرام کےلیے مختص 10 ارب روپے میں سے محض ایک ارب 50 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

علاوہ ازیں اس پروگرام کے لیے مختص رقم کو کم کرکے 5 ارب کردیا گیا۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی پر صرف فنڈ کا 40 فیصد یعنی 9 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے جس کے لیے کل 24 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

دوسری جانب پلاننگ کمیشن نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 145 ارب روپے جاری کردیے جو مجموعی رقم 159 ارب کا 91 فیصد بنتا ہے۔

اس کے برعکس پاور سیکٹرز کے لیے مختص 42 ارب 50 کروڑ میں سے 14 ارب 50 کروڑ (34 فیصد) فراہم کردیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment