ایران میں بائیس سالہ مھسا امینی کی پولیس حراست کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اب 244 مظاہرین کی ہلاکت ہو چکی ہے جبکہ ساڑھے بارہ ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ بات ایک انسانی حقوق گروپ سے متعلق ایک نئی سائٹ اور خبر رساں ادارے HRANA نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔
حقوق گروپ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق ان ہلاک ہونے والوں میں 32 بچے، بھی شامل ہیں۔ اس گروپ کا تخمینہ ہے کہ 16 ستمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے مجموعی طور 12516 شہریوں کو حراست میں لیا گیا اور 28 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ احتجاج کچھ ہی عرصے میں سیاسی احتجاج کا رنگ اختیار کر گیا اور اس نے ملک کے طول و عرض کو گھیرے میں لے لیا۔