ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان کی گرفتاری روک دی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

سپریم کورٹ آ ف پاکستا ن نے نیب کو ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان کو 60 دن تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے کیس کی سماعت کی۔

عدالتِ عظمیٰ نے ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان کی ضمانتوں کا بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے نیب کو 60 دن تک ملزمان کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ریکوڈک منصوبے میں کرپشن کے ملزمان 60 دن میں احتساب عدالت سے رجوع کریں۔

اپنے حکم میں عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے فیصلے میں 2 ملزمان کو ضمانت بعد از گرفتاری دی، جبکہ 8 ملزمان کو ضمانت قبل از گرفتاری دی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں ضمانت دینے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، ضمانت کے قوانین اب بدل چکے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ حقائق کے درست جائزے کے بغیر ضمانت قبل از گرفتاری نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملزمان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں، مناسب فورم پر فیصلے کے لیے بھیج رہے ہیں، نیب قوانین میں ترامیم کے بعد ضمانتوں کا اختیار اب احتساب عدالت کے پاس ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے نیب کے دائر کردہ کرپشن ریفرنس میں ریکوڈک منصوبے کے ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ضمانت دی تھی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment