بلوچ نیشنل موومنٹ کے ذیلی ادارے ”پانک“ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ماہ ستمبر کی رپورٹ جاری کردی۔
پانک کے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ماہ ستمبر میں پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں 30افرادکو جبری لاپتہ کیا، ماہ ستمبر اور اس سے قبل جبری لاپتہ افراد میں 19 کو شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کرکے رہا کردیا گیا جبکہ 2نوجوانوں کو ریاستی مسلح جھتوں نے قتل کیا۔
رپورٹ میں کہاگیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ شدت کے ساتھی جاری ہے۔ستمبر 2022 میں بھی پاکستانی خفیہ اداروں اور ان سے منسلک سی ٹی دی کی کارروائیوں نے عام افراد کی زندگی کو اجیرن بنائے رکھا۔جبری گمشدگی جو بلوچستان میں انسانی المیے کی شکل کرچکی ہے،جس سے بلوچستان کا ہر خاندان متاثر ہے۔ماہ ستمبر میں بھی جبری گمشدگی کے سلسلے میں کمی آنے کے بجائے اضافہ دیکھا گیا۔بلوچستان آج سے نہیں بلکہ گذشتہ دو دہائیوں سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہے جس سے براہ راست پاکستانی فوج ملوث ہے۔حال ہی میں پاکستان کے وزیر داخلہ،وزیر قانون اور مقتدرہ حلقوں نے ہرنائی واقعے کے خلاف جاری احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرکے جبری گمشدگی سے متاثرہ لواحقین سے ملاقات میں بھی یقین دہانی کروائی کہ وہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کو جعلی مقابلے میں قتل نہیں کریں گے جو اس بات کا اعتراف ہے کہ لاپتہ افراد پاکستانی اداروں کے پاس قید ہے۔لاپتہ افراد کمیشن،عدالتی کارروائیاں،وزیر داخلہ اور وزیر قانون کی یقین دہانی کے باوجود لاپتہ افراد بازیاب ہونے کے بجائے دیگر افراد کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین نے پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق اپنی پر امن جدوجہد کے ذریعے اپنی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچائی لیکن آئین و قانون کا راگ الاپنے والے اداروں نے کھبی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا،جو اس بات کا عین ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام ادارے بلوچستان میں ہونے والی جبری گمشدگی،حراستی قتل اور جعلی مقابلوں میں شریک جرم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں سول انتظامیہ اور جمہوریت نام کی کوئی شے موجود نہیں رکھتا،بلوچستان براہ راست پاکستانی فوج کے زیر انتظام ہے،باقی تمام ادارے اور کٹھ پتلی حکومت فوج کے تابع فرمان ہے۔پاکستانی فوج بلوچستان آئین و قانون سمیت عالمی قوانین کو روندتے ہوئے جبری گمشدگی کے سنگین جرم کا مرتکب ہورہی ہے۔ بلوچ قوم کی مسلسل چیخ و پکار کے باوجود زمہ دار عالمی ادارے ابھی انسانیت کے خلاف ان جرائم کی سدباب کے لیئے عملی اقدامات اٹھانے سے قاصر ہیں،جس کی وجہ سے انسانی بحران مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
پانک کے مطابق اس انسانی بحران نے بلوچستان کے عوام کو ذہنی طور پر کافی متاثر کیا ہے،نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے خود کشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔اگر بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں یونہی جاری رہیں اور اس کے انسداد کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو بلوچستان ایک ایسا منظر نامہ پیش کریگا جو خطے میں ایک ایسی صورتحال کو جنم دے گا جو خطے کے امن کے لئے نقصان دہ عمل ہوگا جسکی ذمہ داری ان طاقتوں پر ہوگی جو بلوچستان پر ہونے والے مظالم پر آگاہ ہونے کے باوجود اپنے چپ کے روزے کو نہ توڑ سکے۔