بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل اورماڑہ میں پاکستان نیوی اہلکاروں کی جانب سے مقامی ماہی گیروں پر تشدد کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔
خواتین اور شہریوں کی بڑی تعداد جناح نیول بیس کے مین گیٹ کے سامنے جمع ہوکر احتجاج کر رہے ہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ تشددکانشانہ بنائے گئے مقامی ماہی گیروں سمیت متعلقہ اہلکاروں کوان کے حوالے کیا جائے۔
ماہی گیروں کے مطابق نیوی کے اہلکاروں کی تشدد سے وحید ٹاپی نامی ماہی گیر شدید زخمی ہے جسے نیوی کے اہلکار گاڑی میں ڈال کر کھڑے ہیں جبکہ زخمی ماہی گیر کو کسی بھی قسم کی طبی امداد نہیں پہنچائی جارہی ہے۔
احتجاجی ماہی گیروں کے مطابق چار ماہی گیروں کو نیوی کے اہلکار اُٹھا کر لے گئے ہیں جو ان کے تحویل میں ہیں۔
ماہی گیروں کے مطابق وہ نیوی کی جانب سے دیے گئے سمندری حدود میں پانچ دن سے موری مچھلی کا شکار کررہے ہیں لیکن آج اچانک نیوی اہلکاروں نے آکر اُن پر تشدد کرنا شروع کردیا۔
تاہم دوسری جانب پاکستان نیوی کی جانب سے کوئی بھی موقف سامنے نہیں آیا۔
حالات اب بھی کشیدہ ہیں،لوگوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین وبچے بھی شامل ہیں نیوی کے مین گیٹ کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔