افغانستان میں تعلیمی ادارے میں خودکش دھماکا، 19 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ‘کاج ایجوکیشن سینٹر’ میں جمعے کو خودکش حملے کے نتیجے میں 19 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کا کہنا ہے کہ خود کش حملے میں 19 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے اور کم از کم 27 افراد زخمی ہیں۔

ترجمان کے مطابق تعلیمی ادارے میں خودکش حملہ اُس وقت ہوا جب وہاں داخلے کا امتحان جاری تھا۔ افغانستان میں عموماً جمعے کے روز تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔

اب تک فوری طور پر خودکش حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ”معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا دشمن کی غیر انسانیت اور اور اخلاقی اقدار کی کمی کو ثابت کرتا ہے۔

‘رائٹرز’ کے مطابق اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں اب تک 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سرکاری طور پر جاری ہونے والے اعداد و شمار میں بتائی جانے والی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

مقامی شہری غلام صاق نے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ ”وہ اپنے گھر میں موجود تھے کہ اچانک ایک زور دار آواز آئی اور جب انہوں نے باہر جا کر دیکھا تو تعلیمی ادارے سے دھواں اٹھتا نظر آیا جس کے بعد اہلِ علاقہ مدد کے لیے جمع ہو گئے۔

ان کے بقول انہوں نے اپنے دوست کی مدد سے دھماکے کے مقام سے 15 زخمیوں اور نو مردہ افراد کو باہر منتقل کیا جب کہ دیگر لاشیں کلاس روم کی کرسیوں اور ٹیبلوں کے نیچے موجود تھیں۔

یار رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

سن 2020 میں بھی کابل کے ایک تعلیمی ادارے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں لگ بھگ 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment