ایران میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے پر 18 صحافی گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ایران میں نوجوان خاتون مہسا امینی کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے پر 18 صحافی گرفتارکرلئے گئے۔

ایران میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم کمیٹی نے کل سوموار کے رز بتایا کہ نوجوان خاتون مہسا امینی کے پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد پولیس نے اب تک کم سے کم 18 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے لیے کسی قسم کے وارنٹ جاری نہیں کیے گئے اور ان پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل بھی پردہ رازمیں ہے۔

اس کے علاوہ سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں آزادی اظہار کیسرگرم کارکن حسین روناگی بھی شامل ہیں۔ روناگی نے ہفتے کے روز لندن میں قائم ایران انٹرنیشنل کو انٹرویو دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انہیں ان کے گھرسے ان کے دو وکلا سمیت حراست میں لے لیا ہے۔

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ”اہم تشدد کے تناظر میں اور واٹس ایپ اور انسٹاگرام تک رسائی کو نمایاں طور پر محدود کرنے کے بعد صحافیوں پر حملوں کے بعد ایرانی حکام واضح پیغام دے رہے ہیں کہ مظاہروں سے متعلق کوئی رپورٹ شائع نہ کی جائے۔

تنظیم نے ان صحافیوں کی فوری رہائی اور ایرانیوں کو معلومات کے حصول کے حق سے محروم کرنے والی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اینڈ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق گرفتار کیے گئے 18 صحافیوں میں فوٹو جرنلسٹ یلدا موئیری بھی شامل ہیں، جو نومبر 2019 کے مظاہروں کی ایک مشہور تصویر کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جانی جاتی تھیں۔ دیگرگرفتار صحافیوں میں نیلوفر حامدی جو مہسا امینی کو ہسپتال لے گئی تھیں شامل ہیں۔

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 ستمبر کو مہسا امینی کی موت کے اعلان کے بعد سے ایران میں کم از کم 41 افراد ہلاک اور 1,200 سے زیادہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 22 سالہ نوجوان لڑکی کو اس کے ”ناشائستہ لباس” کی وجہ سے ایرانی دارالحکومت میں گرفتار کیے جانے کے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ تین دن کومے میں رہنے کے بعد فوت ہوگئی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ نے پیر 26 ستمبر کو کہا کہ پولیس کی حراست میں ایک نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے پس منظر میں ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی امریکی کوششوں کا بھرپورجواب دیا جائے گا۔

22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران کے مختلف حصوں میں ’نامناسب لباس‘ پہننے پر ’اخلاقی پولیس‘ کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد مظاہرے ہو رہے ہیں۔

امینی کی موت کی بین الاقوامی سطح پرمذمت کی گئی۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا فسادیوں کی حمایت کرتا ہے اور اسے غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے ایک بیان میں کہا کہ ”واشنگٹن ہمیشہ ایران اور اس کی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہیحالانکہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔”

اپنے انسٹاگرام پیج پرکنعانی نے ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کچھ یورپی ممالک کے رہ نماؤں پر ”فسادیوں ” کی حمایت کے لیے ایک المناک واقعے سے فائدہ اٹھانے اور ”حکومت کی حمایت کے لیے ملک کی سڑکوں اور چوکوں میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی” کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔

ایندھن کی قیمتوں پر 2019 کے مظاہروں کے بعد موجودہ حکومت مخالف مظاہرے ملک میں سب سے بڑے ہیں۔ رائیٹرز نے اس وقت کہا تھا کہ موجودہ حکومت کی تاریخ میں اندرونی بدامنی کی سب سے پرتشدد لہر میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں 1,500 افراد مارے گئے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment