بلوچ سماجی محنت کی لوٹ مار – تحریر:ذوالفقارعلی زلفی

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

پاکستان کے دیگر خطوں میں شاید کسی لاپتہ فرد کا معاملہ صرف ایک ایسی خبر ہو جس پر افسوس کرکے آگے بڑھا جاسکتا ہے ـ ان کے لیے شاید یہ محض ایک انفرادی معاملہ ہے ـ بلوچستان میں لیکن اس کے معنی یکسر مختلف ہیں ـ

بلوچستان میں عموماً وہ جبری طور پر گمشدہ ہوتا ہے جو علم و شعور سے آراستہ و پیراستہ ہو ـ پسماندہ بلوچ سماج میں علم و شعور پانی و سبزے کی مانند کمیاب ہے ـ ایک فرد کی تعلیم و تربیت میں پورے سماج کا اجتماعی حصہ ہوتا ہے ـ اس فرد کی جبری گمشدگی سماج کی اجتماعی محنت کو دریا بُرد کردیتا ہے ـ یہ اجتماعی محنت ایک طویل اور مسلسل عمل کے بعد اس فرد کی شکل میں جمع ہوتا ہے ـ امید ہوتی ہے وہ فرد جمع شدہ محنت کو کام میں لا کر سماج کی ترقی میں اپنا علمی حصہ ڈال کر سماج کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا ـ

اس فرد کی جبری گمشدگی نہ صرف اجتماعی سماجی محنت کی چوری ہوتی ہے بلکہ سماج ترقی کے اہم وسیلے سے محروم ہوکر دوبارہ پیچھے پلٹ جاتا ہے ـ 2009 سے لے کر تاحال سینکڑوں باشعور بلوچ جبری طور پر گمشدہ کیے جاچکے ہیں جن کی اکثریت لاشوں کی صورت بازیاب ہوئی ہے ـ اس مسلسل عمل نے بلوچ سماج کی فکری و شعوری ترقی کا راستہ مسدود کردیا ہے ـ

جبری گمشدگی کے بڑھتے واقعات نے پیچھے رہ جانے والے باشعور نوجوانوں کو از حد محتاط بنا دیا ہے ـ احتیاط پسندی کے باعث ایک طرف وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہیں کیوں کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار سے محروم ہیں ، جس کا نتیجہ لامحالہ طور پر ایک بانجھ سماج کی صورت نکلے گا ـ دوسری طرف ان کی کوشش ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی طرح بلوچستان سے نکل کر کسی اور نسبتاً محفوظ ملک کی جانب ہجرت کریں ـ شعور ہجرت کرجائے تو کیا ہوگا؟ یہ سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے ـ

پنجاب، سندھ اور کسی حد تک پشتونخواہ میں شاعر، ادیب، فلم ہدایت کار، سیاسی کارکن، لکھاری یا موسیقار ہونا شاید عام بات ہو لیکن بلوچ سماج میں ایسے افراد نہایت ہی اہم ہوتے ہیں ـ بلوچ سماج کے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں ـ کم وسائل اور ناقابلِ بیان غربت کا شکار معاشرہ بڑی جانفشانی سے ایسے لوگ تیار کرتا ہے ـ ایک دن اچانک بیرونی قوت آکر سرمایہ لوٹ لیتا ہے ـ گیس، کوئلہ، سونا، تانبہ یا دیگر معدنی وسائل کی لوٹ مار صرف مادی غربت پھیلاتی ہے لیکن باشعور اذہان کا قتل سماج کو فکری طور پر غریب سے غریب تر بنا دیتا ہے ـ

جبری گمشدگیوں پر پاکستانیوں بالخصوص اہلِ پنجاب کی لاتعلقی بلکہ بعض اوقات مخاصمانہ رویہ ایک ایسی نظر نہ آنے والی جنگ ہے جس کا تجزیہ تاحال نہیں ہوا ـ

بلوچ دانش نے بھی تاحال اس بدترین لوٹ مار کا علمی تجزیہ نہیں کیا کہ فکری سرمائے کے مسلسل لٹ جانے نے بلوچ سماج پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں ـ میں صرف چند نام لینے پر اکتفا کروں گا جن کی غیرموجودگی کے باعث کتنا بڑا نقصان ہوگیا ـ

سویڈن سے لاپتہ ساجد حسین مند جیسے نہایت ہی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے بہترین سیاسی مفکر ہیں ـ ایک عام پاکستانی کی نگاہ میں وہ محض ایک صحافی ہیں لیکن بلوچ اچھی طرح جانتے ہیں وہ ایک ذہین پولیٹیکل سائنٹسٹ ہیں ـ

مسخ لاش بن کر بازیاب ہونے والے لیاری کراچی کے حاجی رزاق سربازی کو محض صحافی سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ ایک مارکسسٹ دانش ور اور بلوچی ادب کے جہد کار تھے ـ وہ واحد فرد تھے جنہوں نے ڈارون تھیوری کو بلوچی زبان کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ـ

دور افتادہ قصبے نال سے تعلق رکھنے والے لاپتہ زاہد کرد؛ بلوچ تحریک کو مارکسی خطوط پر چلانے کی کوشش کرنے والے ایک ذہین سیاسی کارکن ہیں ـ وسیع المطالعہ عملی جہدکار ہونے کی وجہ سے وہ سماج کا بہترین تجزیہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ـ

تربت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حنیف شریف وہ پہلے فن کار ہیں جنہوں نے اطالوی نوحقیقت پسند سینما کو بلوچی فلموں کا حصہ بنانے کی کوشش کی، ان پر زمین تنگ کی گئی نتیجہ یہ آج وہ یورپ نشین ہیں ـ

پسماندہ ساحلی قصبے سے تعلق رکھنے والے الیاس نذر نے بلوچی زبان میں بچوں کے ادب کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا مگر ایک دن وہ لاپتہ ہوئے پھر لاش بن کر واپس آئے یوں ان کا منصوبہ ادھورا رہ گیا ـ

مچھ سے تعلق رکھنے والے علی شیر کرد نہ صرف ایک سیاسی کارکن تھے بلکہ وہ مارکسزم کے استادوں میں بھی گنے جاتے تھے، مارکسزم کے یہ استاد بھی لاپتہ ہونے کے بعد لاش بن کر واپس آئے ـ

زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم کھڈکوچہ کے سنگت ثنا بلوچ ایک وسیع المطالعہ باریک بین سیاسی کارکن تھے، انہیں مستقبل کے ایک اہم رہنما کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا ـ ایک دن علم کی یہ دولت چوری ہوئی اور نہایت ہی بری حالت میں لاش بن کر ملی ـ

لیاری کے عظیم بلوچ دانش ور صبا دشتیاری جب کوئٹہ کی سڑک پر گولیوں سے بھونے گئے تو قاتل نے صرف دانش کا ہی قتل نہ کیا بلکہ بلوچی ادب کے ارتقائی عمل کو بھی روک دیا ـ

ایسے افراد کی فہرست طویل ہے ـ بلوچ دانش کو اس لوٹ مار کا بھی گہرا تجزیہ کرنا چاہیے ـ کشت و خون کے اس خوف ناک سلسلے نے سماج پر کیا اثرات مرتب کیے ـ بلوچ خواتین کس نفسیاتی شکست و ریخت کا سامنا کررہے ہیں ـ

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment