افغانستان: طالبان کا پنج شیر میں 40 باغیوں کو ہلاک،100 کو زخمی کرنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان میں طالبان سیکیورٹی فورسز نے شمالی پنج شیر صوبے کے بعض حصوں میں باغی قوتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کلیئرنس آپریشن شروع کیا ہے جس میں باغی فورسز کے درجنوں افراد کو ہلاک اور بہت سوں کو پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

طالبان کے اعلی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کے روز وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ کارروائی اس پہاڑی صوبے کے تین اضلاع میں وہاں عوام کو باغیوں کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے کی گئی۔

مجاہد نے بتایا کہ پنج شیر کے ریخادارا اور افشار ضلعوں میں اس کارروائی میں چار کمانڈروں سمیت چالیس باغیوں کو مار دیا گیا اور ایک سو سے زیادہ کو پکڑ لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی اس ہفتے کے اوائل میں باغیوں کی کچھ تخریبی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی۔ اور مجاہدین یا سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ رات دیر گئے کارروائی مکمل کی جس کے بعد وہاں لڑائی ختم ہو گئی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ باغیوں کے خلاف یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ طالبان ایک سال قبل جنگ سے تباہ حال اس ملک پر قبضے کے بعد سے قومی مزاحمتی فرنٹ یا این آر ایف کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ پنج شیر اور پڑوسی صوبے بغلان کے بعض حصوں میں بڑھتی ہوئی بغاوت ہے۔

اس سال یکم اپریل کو لی گئی ایک تصویر میں افغان کسان ضلع، ہلمند صوبہ، افغانستان میں پوست کاٹ رہے ہیں۔

این آر ایف نے جس کی قیادت تاجک لیڈر احمد مسعود کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پنج شیر میں طالبان فورسز کے خلاف مسلسل چھاپہ مار حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

اس ہفتے تک بھی طالبان علاقے میں بڑے پیمانے پر لڑائی کی خبروں کی تردید کرتے رہے اور این آر ایف کو یہ کہتے ہوئے مسترد کرتے رہے کہ وہ ایسی اپوزیشن فورس ہے جس کا وجود صرف سوشل میڈیا میں ہے۔ اور یہ دعوی کرتے رہے کہ پورے افغانستان پر ان کا کنٹرول ہے۔

این آر ایف کے ترجمان صبغت اللہ احمدی نے ٹوئیٹر کے ذریعے ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہاکہ طالبان نے آٹھ باغی جنگجوؤں کو پکڑنے کے بعد انہیں موت کی سزا دے دی۔ انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ یہ کارروائی گزشتہ چند روز کے دوران طالبان فورسز کے خلاف این آر ایف کے بار بار چھاپہ مار حملوں کے جواب میں کی گئی۔

Share This Article
Leave a Comment