پاکستان کے صوبہ سندھ کے سانگھڑ کے علاقے شاہ پورچاکر سے ایک 50 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق 50 سالہ شخص کی لاش کھیتوں سے ملی جس کی شناخت عرفان بصارت صدیقی کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عرفان بصارت صدیقی پی آئی بی کالونی کراچی شرقی کا رہائشی ہے جبکہ ان کی موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد پتہ چل سکے گی۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین کا کہنا تھاکہ عرفان بصارت صدیقی 5 سال سے لاپتہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ میں جبری گمشدگی کا کیس زیر سماعت ہے اور کیس کی سماعت 14 ستمبر کو مقرر ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ شاہ پور تھانے لاش وصول کرنے پہنچا ہوں۔
دوسری جانب اس حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا کہنا تھاکہ ایم کیوایم کے جبری گمشدہ کارکن کی 6 سال بعدلاش ملنا لمحہ فکریہ ہے، عرفان بصارت کے ماورائے عدالت قتل پرایم کیو ایم کا ایک ایک کارکن رنجیدہ ہے، عرفان بصارت کو 6 سال قبل پی آئی بی کالونی میں گھرسے گرفتار کیا گیا تھا۔
رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس پاکستان انصاف فراہم اورمعاملے کی تحقیقات کاحکم دیں۔