چلی میں عوام نے ریفرنڈم ذریعے نیا آئین مسترد کر دیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

چلی کے باشندوں نے اتوار کے روز ایک ریفرنڈم میں آگسٹو پنوشے کی آمریت کے دوران اپنائے گئے آئین کی جگہ نئے آئین کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ تقریبا ًتمام ووٹوں کی گنتی کے بعد جو نتائج سامنے آئے، اس کے مطابق تقریباً 38 فیصد لوگوں نے اس کی حمایت کی جبکہ اس کے مقابلے میں 62 فیصد سے زیادہ نے اسے مسترد کر دیا۔

بائیں بازو کے صدر گیبریل بورک نے اس نئے آئین کی حمایت کی تھی، تاہم انہوں نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی عہد کیا کہ ”ایک نئے آئینی سفر کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرتا رہوں گا۔”

سن 2019 میں چلی میں سیاسی اور سماجی بے چینی پھیلنے کے بعد نئے آئین کا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے 2020 میں ہونے والے ریفرینڈم میں تقریباً 80 فیصد لوگوں نے ایک نیا آئین تیار کرنے کے حق میں ووٹ کیا، تاہم اس ریفرنڈم سے پہلے آخری رائے شماری سے پتہ چلا کہ تقریباً 47 فیصد ووٹرز مجوزہ آئین کے حق میں نہیں ہیں، جب کہ 38 فیصد اس کی حمایت میں تھے، اور تقریباً 17 فیصد غیر فیصلہ کن تھے۔

پچھلے انتخابات کے برعکس، 15 ملین سے زیادہ اہل ووٹرز کے لیے اس میں ووٹ ڈالنا بھی لازمی تھا۔

نئے آئین کی حمایت میں کمی کی ایک وجہ، جزوی طور پر چلی کی مقامی آبادی کو دی جانے والی بہت زیادہ اہمیت بھی ہے۔ ملک کے 19 ملین افراد میں سے تقریباً 13 فیصد مقامی آبادی پر مشتمل ہے اور نیا مجوزہ آئین انہیں زیادہ خود مختاری فراہم کرتا ہے، خاص طور پر عدالتی معاملات میں۔

یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ یہ آئین ایک ایسے ملک میں اسقاط حمل کو بھی قانونی حیثیت دے سکتا ہے، جس کی نصف آبادی رومن کیتھولک عقیدے کو مانتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تانبہ پیدا کرنے والے ممالک میں چلی کا بھی شمار ہوتا ہے، تاہم نئے آئین میں ماحولیات کے مسائل کو بھی مرکز میں رکھا گیا ہے۔

ماہر عمرانیات مارٹا لاگوس نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ”آپ جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں، وہ چلی کے ووٹروں میں ایک مخصوص قسم کی قدامت پسندی ہے، جسے ہم نے برسوں سے نہیں دیکھا تھا۔”

وہ لوگ جو نئے آئین کے حق میں ہیں وہ اس نوعیت کی پولنگ کے باوجود امید لگائے بیٹھے ہیں۔

نئے مسودے کی حمایت کرنے والے بائیں بازو کے صدر گیبریل بورک کے حکمران اتحاد میں شامل ایک قانون ساز، جوان کارلوس لاٹور کا کہنا تھا، ”لوگ بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے اور ایک بار پھر یہ پول غلط ثابت ہوں گے۔”

جمعرات کی رات میں نئے آئین کی منظوری کی حامی مہم کی اختتامی ریلی میں تقریبا ًپانچ لاکھ لوگ باہر بھی نکلے تھے۔

نئے آئین کے نفاذ سے چلی کی طرز حکومت میں بھی تبدیلیوں کا امکان ہے۔ اس سے علاقائی ایوان کے مقابلے میں سینیٹ کی طاقت کچھ کم ہو جائے گی اور سرکاری اداروں کے کم از کم نصف عہدوں پر خواتین کو فائز کرنے کی ضرورت ہو گی۔

بورک نے عوامی سطح پر یہ عہد بھی کیا تھا کہ دستاویز کے منظور ہونے کی صورت میں اس کے بعض انتہائی متنازعہ نکات کی ضرورت کے مطابق تبدیل یا وضاحت بھی کی جائے گی۔

Share This Article
Leave a Comment