بلوچ مسنگ پرسنزکا احتجاجی کیمپ جاری،حوران بلوچ کوئٹہ کی اعزازی کوارڈینیٹر مقرر

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4749 دن مکمل ہو گئے ہیں۔

نیشنل پارٹی کے مرکزی عہدیداران مرکزی جنرل سیکریٹری جان محمد بلیدی سینیٹر کبیرمحمد شہی ڈاکٹر محمد اسحاق ڈاکٹرطارق اور دیگر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پروی بی ایم کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچ نوجوانوں اور ہرمکتبہ فکرکے لوگوں میں شعور بلوچستان کے کونے کونے میں پھیل رہا ہے اور لوگوں میں اپنے پیاروں کی بازیابی کا ایک جذبہ پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اس غلامی سے چھٹکارے اور اپنے حالت زار کو بدلنے کیلیے عملی کوشش کریں تو دوسری طرف ریاست اس سیاسی بیداری سے ِخاہف اپنے پوری طاقت کے ساتھ بلوچ پرامنجدوجہد کو سبوتاژ کرنے کیلئے اپنے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لاکر بلوچ نسل کشی کا عملا اغار کر چکا ہے ریاست اپنے کثیر الجہتی پالیسی سے ایک طرف بلوچ آبادیوں پر آتش و آئن برسا کر عام شہریوں کے قتل عام کا مرتکب ہو رہا ہے تو دوسری طرف اپنے روایتی مارو پھینکو پالیسی پر تند ہی سے بدستور عمل پیرا ہے آج بلوچ فرزندوں کی جہدوجہد قربانیوں کی وجہ سے بلوچ قومی پرامن جدوجہد دنیا بھر روشناس ہوچکا ہے بلوچ پرامن جدوجہد عالمی پذیرائی میں بلوچ نوجوانوں کا ایک بہت بڑا کردار ہے جنہوں نے اپنے لازوال قربانیوں اور ان تھک محنت سے فلسفہ جہد کو ہر بلوچ نوجوانوں کے ذہن میں نقش کر دیا۔

ماماقدہر بلوچ نے کہا کہ بلوچنوجوانوں کے اس پرامن پرامن طالب جمہوری پرامن جدوجہد ریاست کو اس حد تک بھوکلا دیا ہے کہ وہ غیر مسلح پرامن طالب علم کو نا صرف تعلیمی اداروں سے آغوا کر کے شہید کر رہا ہے بلکہ اب اسے کتابوں اور پبلشروں سے بھی خوف محسوس ہو رہا ہے۔

ماماقدیر بلوچ نے کہا کہ پر بلوچ طلباء اور دوسرے کے تنظیمی لوگوں ڈسپلن کا پابندی پر بھاری ذمہ دار بنتا ہے کہ وہ آذاد خیالی سے دور رہ کر تنظیمی ڈسپلن کا پابندی کرتیہوئے ایک منظم انداز میں اپنے پروگرام آگے بڑھائیں کسی بھی قسم کی انتظامی بے راہ روی اور آزاد خیالی نا صرف مقصد بلکہ مجموعی طور پر تنظیم سمیت تمام کارکنان لواحقین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

تنظیم کی ایک دوسرے بیان میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حوران بلوچ کو تنظیم کے ساتھ مسلسل 10 سال کام کرنے کے بنیاد پر تنظیمی سطع پر کوئٹہ ڈویژن کے لیے اعزازی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ حوران بلوچ دس سال سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ساتھ لاپتہ افراد کے کوائف جمع کرنے تنظیم کے کہنے پر جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ تنظیم کے احتجاجوں میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے اس امید کا اظہار کیا کہ حوران بلوچ لاپتہ افراد کے کوائف جمع کرنے اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگی۔

Share This Article
Leave a Comment