بلوچوں سے گلہ و شکوہ | عزیز سنگھور

0
206

پہلی بلوچی فلم ”ھمل ءُ ماہ گنج“ کے بانی اور معروف اداکار اور ڈائریکٹرانور اقبال آخری دم تک بلوچ قوم سے گلہ شکوہ کرتے کرتے ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی شکایت جائز تھی۔ اس وقت کی بلوچ قیادت کی جانب سے بلوچوں کو انور اقبال کی بنائی گئی فلم کے خلاف ورغلایا گیا۔ قوم کے جذبات سے کھیلا گیا۔ اور فلم کو بلوچ قوم کی کلچر کے منافی قراردیتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں پنجابی فلموں کی طرح عریانی و فحاشی پھیلائی جارہی ہے۔ جبکہ فلم میں ایسی کوئی تحریر اور عکس بندی نہیں ہوئی تھیں۔ فلم کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کی وجہ سے فلم کو ریلیز نہیں کیا جاسکا تھا۔ اس فلم کی کہانی بلوچی زبان کے صف اول کے شعراء و ادیب سید ظہور شاہ ہاشمی نے لکھی۔ انہوں نے پوری زندگی بلوچی زبان و ادب کی نذر کی سید ظہور شاہ ہاشمی نے گوادر میں آنکھ کھولی۔ جبکہ انور اقبال ضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں پیدا ہوئے۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ دونوں نے ایک ہی ضلع میں آنکھ کھولی اور ایک ہی قبرستان ”میوہ شاہ کراچی“میں ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

انور اقبال کے والد محترم پسنی کے ایک کاروباری شخصیت میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی احمداقبال نے بلوچی نیوز چینل وش کی بنیاد رکھی۔ جبکہ سید ظہور شاہ ہاشمی نے گوادر میں ’’انجمن اصلاح بلوچاں‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور اس کے ساتھ ہی عوام کو ان کے حقوق کی آگاہی کےلیے ایک رسالہ کا اجراء بھی کیا جس میں بلوچوں کے سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگرکیا جاتا تھا۔ اس عمل کی پاداش میں ہی اس وقت کے گوادر کے حکمران سلطان قابوس آف عمان نے سید ظہور شاہ کو قید کرنے کے بعد انہیں علاقہ بدرکردیا گیا۔ وہ کراچی منتقل ہوگئے۔ کراچی میں وہ بلوچی زبان‘ ادب اور بلوچی ڈکشنری (لغت) ’’سید گنج‘‘ کیلئے دن رات کوشاں رہے۔ ان کی کتابوں میں بلوچی دربر، بے سرگال، بلوچی سیاہگ، بلوچی اردو بول چال، نازرک، اوردیگر شامل ہیں۔ اسی طرح انور اقبال نے پاکستان ٹیلی وژن کے نایاب ڈراموں بشمول شمع اور آخری چٹان میں بھی اپنی بے مثال اداکاری کے جوہر دکھائے اور انڈسٹری میں نام کمایا۔ ڈرامہ سیریل ’شمع‘ میں اداکاری کے جوہر دِکھا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے انور اقبال بلوچ نے بےشمار اردو اور سندھی ڈراموں میں کام کیا۔

بلوچی زبان کی پہلی فلم ’ھمل و ماہ گنج‘ بنانے کا کریڈٹ بھی انہی کے نام ہے، اس فلم کو پروڈیوس بھی انور اقبال نے کیا تھا جبکہ اس میں بطور ہیرو بھی خود ہی آئے تھے۔ جبکہ فلم کی دیگر اداکاروں میں میں ساقی، انیتا گل ، اے آر بلوچ نور محمد لاشاری اور دیگر شامل تھے۔ سینئر صحافی اور کالم نویس اور میرے (راقم) استاد نادرشاہ عادل نےبھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ نادر شاہ عادل کا تعلق لیاری ایک بلوچ گھرانے سے ہے۔ ان کے خاندان نے بلوچی زبان اور ادب پر بے شمار کام سرانجام دیئے۔

پہلی بلوچی فلم “ھمل ءُ ماہ گنج” 1975میں تیار کی گئی تھی۔ فلم کی کہانی ھمل و ماہ گنج کی داستان پر مشتمل تھی۔ پندرہویں صدی میں پرتگیزیوں نے بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر پر قبضے کے لئے حملہ کیا جہاں میرھمل کلمتی حاکم تھا۔ جب پرتگیز بلوچستان کے ساحل پر حملہ آور ہوئے تو میرھمل کلمتی نے اس حملے کو پسپا کیا۔ اس زمانے میں بلوچوں کا ہیڈ کوارٹر ساحلی بستی کلمت تھا۔ میر ھمل کلمتی ہوت بلوچ تھے۔ وہ کیچ سے کلمت آئے تو انہوں نے اپنے نام کے ساتھ علاقے کا لقب لگانا شروع کردیا۔ اس طرح وہ کلمتی کہلانے لگیں۔ ہوت قبائل کے مختلف ذیلی شاخیں ہیں جن میں کلمتی، زرداری، تالپور، جت اور دیگر شامل ہیں۔ ہوت بلوچ ایک کاروباری کمیونیٹی بھی ہے۔ انہوں نے کاروبار کے غرض سے وادی سندھ کا رخ کیا۔ اس طرح ہوت قبائل کے لوگ پورے سندھ میں پھیل گئے۔ جن میں ملیر،گڈاپ، لٹھ بستی، گھارو، ٹھٹہ، بدین، نواب شاہ، حیدرآباد، میرپورخاص ، ٹنڈو محمد خان، خیرپور اور دیگرعلاقے شامل ہیں۔ آج بھی ہوت قبیلے کے تاریخی مقبرے اور قبرستان ان علاقوں میں ملیں گے۔ جن میں چوکنڈی کا قبرستان سرفہرست ہے۔ یہ کلمتی اور برفت جدگالوں کا مشترکہ قبرستان ہے۔
جب انگریز سامراج نے برصغیر پر قبضہ کیا تو اس زمانے میں موجودہ صوبہ سندھ میں پانچ بلوچ ریاستیں قائم تھیں۔ جن میں ریاست حیدرآباد، ریاست میرپور خاص، ریاست خیرپور، ریاست ٹنڈو محمد خان اور چانڈکا ریاست شامل ہیں۔ چانڈکا ریاست، موجودہ لاڑکانہ ہے۔ جہاں چانڈیو بلوچ حکمران تھے۔ چانڈیو بلوچ رند قبیلہ کے ذیلی شاخ ہیں۔ جبکہ حیدرآباد، میرپورخاص ، ٹنڈو محمد خان اور خیرپور ریاستوں کے حکمران تالپور بلوچ تھے۔ جنہوں نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی۔ تاہم شکست کے بعد ان کی ریاستیں ختم کردی گئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ سربراہ سردار آصف علی زرداری کا تعلق بھی ہوت قبیلہ سے ہے۔

میری (راقم) ملاقات انور اقبال سے وقتاً فوقتاً ہوتی رہی۔ وہ اس وقت کے بلوچ قیادت سے نالا تھے۔ انور اقبال کا کہنا تھا کہ ان کی کسی نے کوئی مدد نہیں کی۔ بلوچ قیادت نے فلم کی مخالفت کی تھی۔ سینما گھروں نے احتجاج کے بعد فلم کی نمائش سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے فلم ریلیز نہیں ہوسکی۔

اگر دیکھا جائے یہ پہلی اور آخری بلوچی فلم تھی۔ آخری اس لیے کہا رہا ہوں کہ اس کے بعد کوئی بھی بلوچی فلم اس معیار کی نہیں بنی جو سنیما کے معیار کے مطابق ہوں۔ اس فلم کی تحریر میں جان تھی پروڈیکشن معیاری تھی۔ اداکار باصلاحیت اور پروفیشنل تھے۔ اگر اس فلم کو چلنے دیتے آج بلوچوں کی زبان اور ثقافت کو فروغ ملتا۔ ان کی تاریخ اجاگر ہوجاتی۔ علاوہ ازیں بلوچ قوم فلم کی صنعت سے استفادہ حاصل کرلیتے۔ اس صنعت سے بے شمار بلوچ برسرے روزگار ہوتے۔ ان کے لئے روزگار کے مواقع کھلتے۔ ان کی فلمی دوبئی، قطر، پاکستان، افغانستان سمیت دیگر ممالک کے سنیما گھروں کی زینت بنتی۔

اس وقت امریکہ، انڈیا سمیت پوری دنیا فلم انڈسٹری سے کمارہے ہیں۔ 2010 کو مجھے (راقم) جنوبی ایشیا کے دیگر ڈاکومنیٹری فلم میکرز کے ساتھ امریکہ جانے کا موقع ملا۔ یہ دورہ دراصل ایک مطالعاتی دورہ تھا۔ جو امریکی حکومت نے انتظام کیا تھا اس دورے کے دوران ہماری ملاقاتیں امریکا کے نامور فلم میکروں سے ہوئی۔ بالی ووڈ کے ایک فلم میکر نے ہمیں بتایا کہ بھارت کی فلم انڈسٹری امریکہ کی فلم انڈسٹری سے زیادہ کمارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا کے دیگر صنعتیں نہ چلے تو انڈین فلم انڈسٹری پوری ریاست کو چلا سکتی ہے۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچی فلم کو چلنے دیا جاتا تو آج بلوچوں کے لئے ایک نئی صنعت کے دروازہ کھلتے جاتے۔ جس سے نہ صرف بلوچی زبان کو فروغ ملتا بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ اس صنعت سے روزگار حاصل کر سکتے تھے۔ بلوچوں کی اس وقت کی قیادت اگر بردباری کا مظاہرہ کرتی تو آج بلوچ اتنی بڑی صنعت سے محروم نہیں رہتی۔ ہر طرف خوشحالی ہوتی ہر طرف روزگار کے مواقع ملتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بلوچ قیادت نے جذباتی فیصلہ کیا تھا۔ جس سے ہماری زبان اور ثقافت کو شدید دھچکا لگا۔

دنیا میں بے شمار مادری زبانیں ختم ہورہی ہیں۔ ان زبانوں کو فروغ دینے کے لئے اقوامِ متحدہ کے تحت ہر سال مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ہے کہ دنیا میں آخری سسکی لینے والی زبانوں کو بچانا ہوتا ہے۔ اگر انور اقبال، سید ظہور شاہ اور نادرشاہ عادل کے ساتھ بلوچ تعاون کرتے آج بلوچی زبان کو نہ صرف فروغ ملتا بلکہ بلوچ اپنی سیاسی، سماجی اور اقتصادی میعار کو بہتر سے بہتر کرسکتے تھے۔ شاید یہ بلوچوں کی ایک تاریخی غلطی تھی۔ جو آج بلوچوں کی نئی نسل بھگت رہی ہے۔

***

نوٹ : یہ مضمون روزنامہ آزادی میں گذشتہ روزشائع ہوا ہے ۔ ہم محترم عزیز سنگھور کی اجازت و شکریے کے ساتھ اسے سنگر کے قارئین کی دلچسپی و معلومات کے پیش نظر شائع کر رہے ہیں۔ادارہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here