روس کی یوکرین کے خلاف اس سال چوبیس فروری کے روز فوجی مداخلت کے ساتھ شروع کردہ جنگ کے ساتویں مہینے میں داخل ہو جانے کے بعد صدر ولادیمیر پوٹن نے ماسکو میں یہ اعلان کیا تھا کہ روس اپنی مسلح افواج کی مجموعی تعداد بڑھا دے گا۔
ماسکو کی مسلح افواج کی موجودہ مجموعی نفری 1.9ملین بنتی ہے اور صدر پوٹن نے کہا تھا کہ اس تعداد کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے اضافے کے ساتھ 2.04 ملین کر دیا جائے گا۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے اس اعلان کے بعد کہ ملکی مسلح افواج کی تعداد موجودہ انیس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ چالیس ہزار کر دی جائے گی، چند مغربی ممالک اب خود سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ اضافی روسی فوجی آئیں گے کہاں سے؟
روسی سربراہ مملکت کے اس اعلان کے ردعمل میں مغربی دنیا اب ایک تو خود سے یہ سوال پوچھنے لگی ہے کہ یہ ایک لاکھ چالیس ہزار نئے روسی فوجی آئیں گے کہاں سے اور دوسرے یہ کہ آیا اس اضافے کے بعد یوکرین میں روس کی جنگی صلاحیت میں بھی کوئی نمایاں اضافہ ہو سکے گا؟
لندن میں برطانوی وزارت دفاع نے اتوار اٹھائیس اگست کے روز کہا کہ اول تو یہی واضح نہیں کہ صدر پوٹن نے جن تقریبا? ڈیڑھ لاکھ نئے فوجیوں کی بھرتی کا اعلان کیا ہے، وہ اس ہدف کے حصول کو یقینی کیسے بنائیں گے۔ دوسرے یہ کہ مجموعی فوجی نفری میں ایسا کوئی اضافہ یوکرین کے خلاف جنگ میں ماسکو کی عسکری صلاحیتوں میں کسی نمایاں بہتری کا سبب نہیں بن سکے گا۔
صدر پوٹن نے گزشتہ ہفتے اس بارے میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط بھی کر دیے تھے۔ اس حوالے سے لیکن برطانوی وزارت دفاع نے یوکرین کی جنگ سے متعلق اپنی معمول کی بریفنگ میں یہ سوال کیا کہ روسی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس اضافی فوجی نفری کو یقینی کیسے بنایا جائے گا: زیادہ رضاکار بھرتی کر کے یا لازمی فوجی سروس کے ضابطے کو وسعت دیتے ہوئے۔
عسکری ماہرین کا اندازہ ہے کہ روس کی مجموعی آبادی کو مدنظر رکھا جائے تو تقریبا? ڈیڑھ لاکھ نئے فوجیوں کی بھرتی کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ اگر کریملن نے کسی طرح یہ بھرتی کر بھی لی، تو اس سے ماسکو کو یوکرین کی جنگ میں کوئی بڑا عسکری فائدہ نہیں ہو سکتا۔
برطانوی وزارت دفاع نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا ہے، ”یوکرین کی جنگ میں ہزارہا روسی فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے نئے فوجیوں کی بھرتی بھی زیادہ نہیں ہو رہی، جنہیں محدود مدت کے معاہدوں کے تحت روسی فوج میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جن نوجوانوں سے لازمی فوجی سروس کے قانون کے تحت روسی آرمڈ فورسز میں خدمات لی جاتی ہیں، انہیں تکنیکی طور پر پابند نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ روس کے ریاستی علاقے سے باہر بھی خدمات انجام دیں۔“
روسی یوکرینی جنگ کے پس منظر میں جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو جرمنی آئندہ کئی برسوں تک روس کے خلاف یوکرین کی امداد جاری رکھے گا۔
بیئربوک نے جرمن اخبار ‘بِلڈ اَم زونٹاگ‘ میں 28 اگست کو شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ”افسوس کی بات ہے لیکن ہمیں یہ بھی تصور کرنا پڑے گا کہ یوکرین کو اگلے موسم گرما میں بھی اپنے دوستوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں کی ترسیل کی ضرورت پڑے گی۔“
انہوں نے کہا، ”یوکرین ہماری آزادی اور ہمارے امن کے دفاع کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ ہم کییف حکومت کی مالی اور عسکری دونوں حوالوں سے مدد کر رہے ہیں۔ اور ایسا جب تک ضروری ہوا، تب تک کیا جائے گا۔“
انالینا بیئربوک نے مزید کہا کہ یہ صدر پوٹن کی غلط فہمی تھی کہ روس چند ہی ہفتوں میں یوکرین پر قبضہ کر لے گا۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”یہ جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔“