شہداء مرگاپ – تحریر:۔ محمد یوسف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

جب ہم تاریخی کتابوں کا مطا لعہ کرتے ہیں، تو ان میں ہمیں مختلف ادوار میں مظلوم و محکوم اقوام میں کئی نامور شخصیات کی عظمت سے بھری داستانیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ وہ چاہے فرانسیسی استعمار کے خلاف ویتانامیوں، الجزائریوں یا ان کے دیگر نوآبادیات میں بسنے والے افتادگان خاک کی داستانتیں ہوں، یا جاپان، امریکہ،برطانوی سامراج، سلطنت ایران، عرب، ترک و پرتگیزی دور میں تاریخ رقم کرنے والے عظیم شخصیات کا کردار جس کی بدولت انہوں نے وقت کی کھایا پلٹ دی۔ تاریخ انسانی کا ہر دور ایسے عظیم شخصیات کی داستانوں سے بھری پڑی ہیں جن کا کردار انسانیت کے لیے باعث فخر ہے۔دنیا کے دیگر خطوں کی طرح بلوچ سرزمین نے بھی ہر دور میں معراج کے حامل ایسے فرزندوں کو جنم دیا ہے جن کا نظریہ و فکر اور عمل و کردار آج قوم کے لیے باعث فخر ہے۔

انہی شخصیات میں سے تین عظیم شہداء جنہیں قابض ریاست نے 3اپریل 2009ء کو کیچ سے جبری طور پر لاپتہ کرکے 9اپریل 2009ء یعنی چھ دن بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں مرگاپ کے علاقے میں پھینک دیے۔ بلوچستان کی تاریخ تو ایسے تاریخ ساز شخصیات سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے استعماری قوتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے خود کو قوم و وطن پہ قربان کردیے۔وہ چاہے کوہستان مری میں انگریزوں اور پاکستانی استعمار کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے جانوں کا نذرانہ دینے والے بلوچ فرزند ہوں، یا ڈیرہ بگٹی کا شیردل فرزند غلاحسین مسوری کی جدوجہد، یا جہلاوان میں نورا مینگل اور31جنوری 1898 مکران میں بلوچ خان نوشیروانی کا گوگ پروش کی جنگ میں تاریخ ساز کردار اور قلات میں خان مہراب خان کی وطن پہ قربان ہونے کا واقعہ۔۔۔الغرض پوری سرزمین پہ ایسے فرزند گزر چکے ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت بلوچ قومی تاریخ آج تک جاویداں ہے۔ قربانیوں کا یہ تسلسل ہر دور میں قائم رہا ہے جس کا نظارہ ہم پاکستانی قبضے کے بعد 1948ء، 1958ء میں نواب نوروز خان

اور اس کے ساتھیوں کی جدوجہد میں دیکھ سکتے ہیں جنہیں بعد میں قابض ریاست نے پانسی دی اور نواب نورز خان عقوبت خانوں میں شہید ہوگئے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد1948ء میں بر صغیر پر انگریز استعماری قبضہ کا سورج ڈوبنے لگا اور بلوچ قوم اپنی آزادی کا جشن منا رہے تھے۔ مکار انگریزی ایجنٹوں نے متحدہ ہندوستان اور آزاد بلوچستان کو اپنے مفادات کے سامنے مضبوط دیوار سمجھ کر ان کو کمزورکرنے کیلئے اپنے توسیع پسندانہ پالیسیو ں کو عملی جامہ پہنا کر ایک غیر مہذب پنجاپی کالونی ریاست پاکستان کی تشکیل کرکے اسے اس خطے کا چوکیدار مقرر کیا۔

جس نے وجود میں آتے ہی سندھی،پشتون، سر زمین پراپنے دہشتگردانہ قدم جماکر آزاد بلوچ ریاست پر 27 مارچ1948ء میں حملہ کرکے ریاست کے مرکزی شہر پہ قبضہ کرلیا اس سے قبل 17مارچ کو اس قابض نے ساحلی علاقوں سمیت پنجگور تک اپنا قبضہ مکمل کرلیا تھا۔اس جبری قبضہ کے خلاف بلوچ قوم نے زور اول علم بغاوت بلند کیا اور پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا جس کا تسلسل آج ایک منظم بلوچ قومی تحریک کی صورت میں جاری وساری ہے۔ اس تاریخی جدوجہد میں کئی نامور شخصیات بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جان کا نذرانہ دے چکے ہیں جیسے تراتانی میں شہید اکبرخان کی شہادت، سرلٹھ کے مقام پر شہید بالاچ خان کی قربانی، زہری گٹ کابو میں شہید شفیع کا وطن میں نثار ہونے کا واقعہ، سوراپ میں شہید خالد جان اور شہید دلوش جان کی قربانی کا واقعہ۔۔

۔اسی طرح مرگاپ کو شہید غلام محمد بلوچ، شہید لالا منیر بلوچ اور شہید شیرمحمدبلوچ اپنے لہو سے سیراب کیا۔ان شہداء کے علاوہ بھی ان علاقوں میں درجنوں شہداء اپنے لہوکا نذرانہ دے چکے ہیں چونکہ میرا موضوع مرگاپ واقعہ ہے۔ 3 اپریل بلوچ قوم اوردنیا کے ان تمام محکوم و مظلوم اقوام کو یہ پیغام دیتاہے کہ اپنی قومی بقاء اور سرزمین کی دفاع کیلئے سروں کی بازی لگانا ایک باوقار با شعور قوم کی پہچان ہے اور یہی طریقہ جدوجہد انسان کو تاابد زندہ رکھنے کا وسیلہ بھی۔ مرگاپ واقعہ سے قبل اس علاقے کے نام سے شاید کوئی واقف ہی نہیں تھا اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ مرگاپ کی ولادت دراصل اسی دن ہوا جس دن قابض ریاست نے قوم کے رہنماؤں کا لہو زمین کے اس نکڑ پہ گرایا۔

جب قبضہ گیر ریاست اور ریاستی باجگزار نام نہاد قوم پرستوں نے بلوچ قومی تحریک کو منظم اور مربوط خطوط پہ استوار ہوتے دیکھا تو انہیں اس میں اپنی موت دکھائی دی تو بالخصوص نام نہاد قومپرستوں نے اپنے سابقہ سازشوں کو جو بلوچ قومی جہد اور تحریک آزادی کی روح روان بلوچ نیشنل موومنٹ کے بانی شہید غلام محمد بلوچ کے خلاف 1990ء سے کرتے چلے آرہے ہیں اور2002ء سقوط بولان تحریر کرنے سے یہ اختلافات مکمل تضادات کی صورت اختیار کرچکے تھے۔اس مضمون میں شہید غلام محمد بلوچ نے تمام حقائق قوم کے سامنے رکھ دیے جس کی وجہ سے اب وہ ایک ایسے نہج پہ پہنچ چکے تھے جس میں شہید غلام محمد بلوچ کو وہ ہر حال میں راستے سے ہٹانے کی کو ششوں میں مگن تھے۔اس سے قبل کہ یہ نام نہاد کوئی حرکت کر بیٹھتے شہید غلام محمد بلوچ نے ایک انقلابی پارٹی قائم کی۔بلوچ نیشنل موومنٹ نے قیام کے بعد کامیابی کے جھنڈے گھاڑ رہاتھا جماعت کی ان کامیابیوں کو دیکھ کر وہ مزید بدحواس ہوگئے جس کی بنا ریاست نے جون2005ء میں مختلف اوقات میں کئی جعلی مقدمات اے ٹی ایف اور دوسری عدالتوں میں دائر کرکے غلام محمد بلوچ اور مخلص ساتھیوں ں کو راستے سے ہٹانے کی سازشوں میں مصروف ہوگئے، غلام محمد ان جعلی مقدمات کی مقابلہ کرتے ہوئے تحریک کو مزید فعال کرنے کی کوششوں میں دن رات جدوجہد کرتے رہے۔

ان کا مقصد تھا کہ جب قوم شعوری بنیادوں پہ تیار ہوگا تو پر اسے اس کی منزل پہ پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس جدوجہد کے دوران آپ دو مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔دوسری مرتبہ 3 اپریل2009 ء کو جب آپ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ تربت کورٹ میں پیشی سے فارغ ہوکراپنے وکیل واجہ کچکول ایڈوکیٹ کی چمبر میں بیٹھے ہوئے دوسرے کیس کے مطلق مشورہ کررہے تھے جو اے ٹی ایف عدالت سے پچاس گز اور تربت سٹی پولیس تھانے سے سو گز کے فاصلے پر واقع ہے، اچانک قبضہ گیر ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کچککول ایڈوکیٹ کی چمبرمیں داخل ہوکر توڑ پھوڑ کرکے غلام محمد،لالہ منیراور شیر محمد کو بندوق کی نوک پر زبردستی گرفتار کرکے اپنے ساتھ لیکر نا معلوم مقام پر منتقل کردیا اور چھٹے دن یعنی 9اپریل کو شہید غلام محمد بلوچ، شہید لالامنیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ لاشیں مرگاپ کے علاقے سے ملی۔شہداء کی لاشیں دیکھ کر اس بات کا یقین ہوچلا تھا کہ قومی رہنماؤں کو اسی دن شہید کیا گیا تھا جس دن انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ مرگاپ واقعہ کو آج گیارہ سال کا عرصہ گزرچکا ہے اور قومی تحریک آزادی تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ ریاست شاید یہ سمجھتا تھا کہ شہید غلام محمد بلوچ راستے ہٹانے کے بعد یہ تحریک بھی اپنے انجام کو پہنچے گا لیکن شہید غلام محمد بلوچ تحریک آزادی کو اس کی منزل تک پہنچانے کا کام بہت پہلے کرچکا تھا جس میں انہوں نے تحریک اور بلوچ نیشنل موومنٹ کو ادارتی سانچے میں ڈال دیا تھا کیوں کہ انہیں اس بات کا ادراک تھا کہ ادارتی طرز سیاست کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہی دراصل شہید غلام بلوچ کی منفرد صفت تھی جس کی بدولت وہ آج قومی تاریخ میں ایک ایسے مقام پہ پہنچ چکا جہاں پہنچنے کے لیے غلام محمد ہی بننا ہوگا فقط غلام محمد۔۔۔

Share This Article
Leave a Comment