واشک و موسیٰ خیل سے 6لاشیں برآمد،کراچی سے جمعیت اہل حدیث کا رہنما لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے علاقے واشک اور موسیٰ خیل سے سیلابی ریلوں سے 6لاشیں برآمد ہوگئیں جبکہ کراچی سے جمعیت اہل حدیث کیچ کا رہنما لاپتہ ہوگیا ہے۔

واشک کے علاقے شاہوگیڑی میں مون سون کے بارشوں کے نتیجے میں سیلابی ریلہ نے دو لیویز سپائی رسالدار محمد افضل نائب رسالدار نیاز محمد جو کہ بسیمہ میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے اور اپنے ذاتی کابلی وڈز گاڑی میں ایک سرکاری کام کے سلسلے میں چاغی گئے جہاں سے واپسی پر شاہوگیڑی ضلع واشک میں یک مچ ٹو خاران سی پیک روڑ پر گاڑی کو سیلابی پانی بہہ کر لے گیا، جن میں ایک سپاہی پانی سے بچ نکلنے میں کامیاب جبکہ دو سپاہی رسالدار محمد افضل اور نائب رسالدار نیاز محمد کو سیلابی پانی گاڑی سمیت بہا کر لے گیا۔

دونوں افراد کی لاشیں برآمد ہوگئیں، جنہیں ضروری کارروائی کے لیئے ڈی ایچ کیو شیخ زید اسپتال خاران لایا گیا۔

دوسری جانب بلوچستان اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے سیلابی ریلوں سے موسی خیل، بارکھان اور کوہلوکے علاقوں میں بڑے پیمانے پرنقصان ہوا، موسی خیل میں اندرپوڑ ڈیم ٹوٹ گیا جس کے باعث سیلابی پانی دیہات میں داخل ہوگیا جب کہ ریلوں میں 12افراد بہہ گئے جن میں سے 4کی لاشیں نکال لی گئیں۔

دوسری جانب 2بڑے پل بہنے سے موسی خیل کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے کوہ سلیمان اوربلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلوں سے تونسہ کے10سے زائد دیہات ڈوب گئے۔

دو مقامات پر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں، قبائلی علاقوں کا تونسہ سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

ادھر لہڑی ندی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جب کہ مٹھوان میں متاثرین کو منتقل کرتے ہوئے ٹریکٹر ٹرالی ریلے میں الٹ گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بلوچستان کو سندھ سے ملانے والی ایم ایٹ شاہراہ ونگوہل کے مقام پر بہہ گئی جس کے باعث ہرقسم کی ٹریفک معطل ہو گئی سبی شہر اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے جہاں تلی ندی کے قریب بی بی صاحب کے مقام پرحفاظتی بند میں شگاف پڑگیا جس سے کئی دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب کمشنر ڈی جی خان عثمان انور کا کہنا ہے کہ تونسہ اورراجن پور میں سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں، تونسہ کی سنگڑ ندی میں دو لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا آیا جس سے 10دیہات زیر آب آگئے جب کہ انتظامیہ نے 280افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا۔

دریں اثنامعروف عالم دین ومدرس شیخ ایاز نور تگرانی کراچی سے لاپتہ ہوگئے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ چند سالوں سے خون کے کینسر میں مبتلاء ہونے کی وجہ سے علاج کے سلسلے میں کراچی جاتے آتے تھے جبکہ ڈاکٹرکے ہاں وہ بیماری کے سلسلے میں پیشی کے سلسلے کراچی گئے تھے جہاں لیاری کراچی کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے کہ 12 اگست رات 2بجے تقریباً پولیس وسادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے ہیں جن کا تاحال کوئی اتاپتہ نہیں۔

ان کا شمار تربت کے جید علماء کرام اور جامعہ اسلامیہ سلفیہ تربت کے سینئر اساتذہ میں سے ہوتاہے وہ گزشتہ کئی عشروں سے جامعہ اسلامیہ میں بطور سینئر استاد خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ایک مسجدمیں گزشتہ پندرہ سالوں سے تقریباً امامت کرر ہے ہیں۔

ان کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے طلبہ اور معتقدین سمیت جماعتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب مرکزی جمعیت اہل حدیث بلوچستان کے ناظم اعلی مولانا عبدالغنی زامرانی نے اپنے بیان میں کہاکہ علماء کرام کو لاپتہ کرکے اٹھانے کا عمل قابل تشویش اور قابل مذمت ہے، علماء کرام اور دینی مدارس کے طلبہ پرامن شہری ہیں انہیں اٹھاکر لاپتہ کرنے سے علماء طبقے میں بے چینی جنم لے گی،شیخ ایاز نور تگرانی ایک جید عالم دین اور خطیب ومدرس ہیں ان کا کسی منفی سرگرمی سے تعلق نہیں وہ بیمارہیں اور گزشتہ کئی سالوں سے کراچی کے ڈاکٹروں کے پاس پیشی لگانے اور چیک اپ کے سلسلے میں آتے جاتے ہیں،انہیں بلاوجہ اٹھانا اور لاپتہ کرنا سراسر ظلم ہے لہٰذا حکومت بلوچستان اور حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مولانا ایاز تگرانی کو جلد ازجلد بازیاب کرائیں بصورت دیگر ہم احتجاج پرمجبور ہوں گے۔

بلوچستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ گزشتہ کئی عشروں سے جاری ہے، بلاوجہ لوگوں کو اٹھانے سے لوگوں میں مزید نفرتیں بڑھتی جارہی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment