نظریہ شہید غلام محمد بلوچ- تحریر:۔ ڈاکٹر نوکاپ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

دنیا میں بسنے والے اقوام میں ایسے بے مثال تاریخ ساز ہستیاں ملتے ہیں جنھوں نے اپنے عمل اور قربانیوں سے خود کو اور اپنے قوم کو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رکھا۔ بلوچ قوم،بلوچ سرزمین اور بلوچ قومی تاریخ میں ایسے کئی انمول ہستیاں موجود ہیں جو اپنے فکر،نظریہ اور عمل و کردار سے ثابت کیا کہ قومیں قربانی کے عمل سے گزر کر اپنا وجود و شناخت قائم اور زندہ رکھ سکتے ہیں۔

جب ہم بلوچ قومی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ماضی میں خیربخش مری اول، نورا مینگل، بلوچ خان نوشیروانی سمیت کئی تاریخ ساز ہستیاں نظرآئیں گے جنہوں نے اپنی جدوجہد کی بدولت منفرد مقام حاصل کیا۔ماضی قریب میں ایسی ہستیوں کو ہم شہید بالاچ مری، کامریڈشہید فدا بلوچ،شہید ڈاکٹر منان جان، شہید استاد اسلم بلوچ،شہیدعلی شیر کرد،شہید سنگت ثناء بلوچ،شہیدجلیل ریکی بلوچ، نواب خیر بخش مری،شہیدنواب اکبر خان بگٹی سمیت سینکڑوں رہنماوں کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے اپنے تاریخ ساز کردار سے بلوچ قومی تحریک کو دوام بخشنے میں کلیدی کردار ادا کیے ان کا یہی کردار ہے جس کی وجہ سے تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔

انہی عظیم شخصیات میں ایک نام بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائد شہید واجہ غلام محمد بلوچ کا بھی ہے جو اپنے نظریے اور سوچ و فکر سے بلوچ قومی تحریک آزادی اور بلوچ راج دفتر میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے شہید غلام محمد بلوچ کے بارے جو کچھ پڑھا سنا اور دیکھا ہے آپ ایک کامل سیاستدان، باعلم اور باعمل انسان تو تھے ہی لیکن شہید بلوچ گل زمین، بلوچ تاریخ، بلوچ جغرافیہ، قومی تحریک اور دشمن پاکستان کے مکرہ فریب غلیظ ارادوں اور توسیع پسندعزائم سے مکمل واقفیت رکھتے تھے جہاں آپ کو یہ معلوم تھا کہ ریاست جلد یا بدیر آپ کو راستے ہٹانے کی ہر ممکن کو شش کرے گی۔لیکن آپ نے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر کوچہ و گدان میں بلوچ قومی تحریک آزادی کا پیغام پہنچانے کو اپنا فریضہ خیال کیا۔آپ کو اس بات کا ادراک تھا کہ جب تک قوم شعوری بنیاد پہ تیار نہیں ہوگا اس وقت تک آزادی فقط ایک خواب ہی ہوگا۔

اسی خواب کو حقیقی تعبیر دینے کے لیے آپ نے دن رات ایک کیا تا کہ تحریک عوامی شکل اختیار کرے۔جس کے اثرات ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے اپنے تقاریر، تحریر،عملی جد و جہد اور لہو سے ثابت کیا کہ شہید واجہ غلام محمد اپنے قوم اپنی زمین سے کتنی مہر و محبت کرتے تھے اور آپ نے اپنی جدوجہد سے یہ باور کرایا کہ جہد آزادی میں عوامی حمایت یا عوامی موبلائزیشن کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ جب ہم شہید غلام محمد کا عہد دیکھتے ہیں تو اس دور میں ریاست اور اس کے مہروں نے آپ کو اس غلیظ سیاست اور پالیمنٹ کا حصہ بنانے کے لیے مختلف حربے، ہتھکنڈے استعمال کیے اور مختلف مراعات اور آسائش پیش کیے لیکن اپنی زمین سے عہد وپیمان کرنے والے، قوم و وطن سے جنون کی حد تک عقیدت رکھنے والا انسان دشمن کے ان ہتکھنڈوں کو ہمیشہ ٹھکراتا رہا اور آپ ہمہ وقت اس بات کا پرچار کرتے تھے کہ قومی بقااس غیر فطری ریاست کے اداروں میں نہیں بلکہ قومی بقا کے لیے عملی جدوجہد ہی بنیادی شرط ہے جس کے لیے آپ کو یہ تمام آسائشیں ترک کرنا پڑے گا۔

یہ راستہ جس کا انتخاب شہید غلام محمد بلوچ نے کیا اس میں قید و بند سے لے کر جان کی قربانی تک دینی پڑتی ہے اور آپ کو اس بات کا ادراک تھا کہ غلام محمد کا لہو بہت جلد سرزمین بلوچ کو سیراب کے گا اس کے باوجود بھی آپ اپنے نظریے اور فکر پہ قائم رہے۔یہی دراصل ایک عظیم رہنما کی صفت ہوتی ہے جہاں وہ موت کو گلے لگانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔کیوں کہ اسے اس بات کی جانکاری ہوتی ہے کہ کسی ایک رہنما کے جانے سے تحریکیں کبھی زوال پذیر نہیں ہوتے بلکہ ایسی تحریکیں جو ادارتی صورت میں قائم ہوں انہیں قربانیوں سے مزید پذیرائی ملتی ہے۔ بلوچستان میں ظلم و زیاتیوں کا سلسلہ تو پاکستانی قبضے کے بعد سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے بلکہ آج ان میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے جہاں ہر روز اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ بلوچ قوم کی تذلیل اور بے حرمتی ہورہی ہے۔قابض ریاست کے اداروں اوراس کے آلہ کاروں جن میں نام نہاد قوم پرست بھی شامل ہیں نہ آپ کا غیرت نہ جان نہ مال گویا کچھ بھی محفوظ نہیں،ہزاروں بلوچ فرزند قتل ہزاروں پابند سلاسل ہیں۔

آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس ملک اور ملک کے پالیمنٹ سے شہید غلام محمد بلوچ جیسے دوراندیش سیاستدانوں اور رہنماؤں نے مکمل بائیکاٹ اور بغاوت اختیار کیا تھا۔ اس نظام اور پالیمنٹ کا حصے بننے والے مفاد پرست قوم دشمن نمونے دشمن ریاست کی جانب سے ماوں اور بہنوں کی عزت و غیرت کی پامالی ہزاروں فرزندوں کی شہادت پچاس ہزار سے زائد بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگی اور دیگر جرائم کا نہ صرف انتہائی بے حسی بے شرمی سے نظارہ دیکھ رہے ہیں بلکہ اس میں شریک کار بھی ہیں۔کیوں کہ پاکستانی سیاست، کرسی، مراعات اور پالیمنٹ اس شرط پر ملتی ہے کہ بلوچ سرزمین پرجو لوٹ مار، قتل و غارت،چادر چاردیواری کی پامالی وسائل کی سودابازی ہورہی ہے ان پر مکمل خاموشی اختیار کرنا اور اس قبضہ گیریت کو مزید مضبوط اور محکم کرنے اور ضرورت پڑنے پر مکمل شراکت داری کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب کچھ شہید غلام محمد جیسے باشعور، باضمیر قوم دوست اور وطن دوست بلوچ کو ہر گز قبول نہیں تھا وہ فقط قومی آزادی کاخواہاں تھا جس کے لیے اس غیرفطری ریاست کے اداروں میں رہ کر جدوجہد کرنا ممکن ہی نہیں بلکہ اس ریاست کے اداروں میں رہ کر ریاستی اداروں کا ہمنواء ہی بنا جاسکتا ہے جو اجتماعی موت کے مترادف ہے اور شہید غلام محمد بلوچ قوم کو اسی اجتماعی موت کے چنگل سے آزادی دلانے کی جدوجہد میں مصروف عمل رہا اور اپنی توانائی قومی یکجہتی اور قومی آزادی کی تحریک پہ صرف کی۔

Share This Article
Leave a Comment