لاپتہ کفایت اللہ عدالت میں پیش، خضدار سے ایک شخص پر اسرار طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے علاقے منگچر سے جبری گمشدگی کے شکار کفایت اللہ بلوچ کوعدالت میں پیش کردیا گیا جبکہ خضدار سے ایک شخص پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔

گیارہ فروری 2022 کو رات گئے منگچر میں گھر پر پاکستانی فورسز کے چھاپے میں گرفتار اور بعدازاں لاپتہ ہونے والے کفایت اللہ کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے کفایت اللہ بلوچ پیشے کے لحاظ سے اسکول کا استاد ہے جبکہ اساتذہ یونین کا عہدیدار بھی رہا ہے۔ جس وقت کفایت کو ریاستی فورسز نے حراست بعد لاپتہ کردیا اُس وقت اسکی اہلیہ حاملہ تھی اور اس کے بعد کفایت اللہ کی اہلیہ اپنے کمسن بچوں کے ساتھ سراپا احتجاج تھی۔

کفایت اللہ کے باحفاظت بازیابی کے لیے انکے اہلخانہ نے سترہ جولائی کو احتجاجاً قلات منگچر مرکزی آر سی ڈی شاہراہ پر دھرنا دے کر بند کردیا تھا۔ اس کے علاوہ کفایت اللہ کی اہلیہ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے ہونے والے احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں میں بھی اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے سراپا حتجاج تھی۔

کفایت اللہ کی بازیابی کی تصدیق وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کردی ہے ۔

دوسری جانب ضلع خضدار میں ایک شخص پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگیا ہے۔

ضلع خضدار کے یونین کونسل کوڑاسک کے کودہ عزید آباد کے رہائشی عبدا لقادر ولد کریم داد نامی شخص عید کے بعد 14 جولائی 2022 کو گھر سے کسی کام کے سلسلے سے روانہ ہوا تھا لیکن 10 دن گزر گیا ہے،ا بھی اتک ن کاکوئی خبر نہیں ہے۔

عبدالقادر کے اہلخانہ کے مطابقاس کی پر اسرارگمشدگی سے پورا خاندان صدمے سے دوچار ہے۔

ان کے اہلخانہ نے علاقے کے تمام سیاسی و قبائلی معتبرین سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی بازیابی میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہاکہ عبدالقادروہ کا کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے،وہ اپنے گھر اور خاندان کا واحد کفیل ہے اور اس کے گھر میں کوئی کمانے والا بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے گھر میں فاقہ کشی کی نوبت ہے۔

انہوں نے کہ اگر کسی نے عبدالقادرکے حوالے سے کوئی بھی جانکاری ہو تو وہ ہمیں 03332435558کے نمبر پر اطلاع کردیں تاکہ ہماری غموں کا مداوا ہوسکے۔

Share This Article
Leave a Comment