پاکستان کے ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے کراچی یونیورسٹی حملے کے ایک مبینہ سہولت کارکو 14روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیاہے۔
ہفتہ کو انسداد دہشت گردی عدالت نے کراچی یونیورسٹی حملہ کیس کی سماعت کی۔
پولیس نے گرفتار مبینہ سہولت کار داد بخش کوعدالت میں پیش کیا۔
پولیس نے موقف میں کہا کہ ملزم سے ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی، ملزم بی ایل اے اوربی ایل ایف کراچی کا کمانڈ رہے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ پرخود کش حملے کاماسٹرمائنڈ ہے اور کراچی میں حملوں میں سہولت کاری کا کام کرتا تھا۔
عدالت نے ملزم کو 14روزہ عدالتی ریمانڈپرجیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر کیس کا چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
یاد رہے کہ شعیب بلوچ نال ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم ہیں جنہیں 29اپریل 2022ء کوکراچی کے علاقہ گلستان جوہر بشیر ولیج سے لاپتہ کیاگیا تھا مگر 4جولائی 2022ء کو سی ٹی ڈی نے ماری پور کراچی سے ان کی گرفتاری بنام داد بخش کے طور پرظاہر کرکے ان پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائدکرکے عدالت سے 2ماہ کا ریمانڈ طلب کیاتھا۔
شعیب بلوچ کے خاندان کا تربت میں ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وہ کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے چارہے تھے۔وہ ایک محنتی اورپڑھائی کے شوقین طالب علم ہیں انکی گرفتاری سے ان کی تعلیمی کیریئر ضائع ہونے کا خدشہ ہے، 2 ماہ کے ریمانڈ اورتشدد کے بعد یقیناً ان کی ذہنی حالت مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔