بلوچ یکجہتی کمیٹی کاڈیرہ غازی خان و بلوچستان میں ایمرجنسی کے نفاذکا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈیرہ غازی خان نے بلوچستان بھر میں رواں ہفتے ہونے والی بارشوں کے سبب ہونے والی تباہ کاررئیوں اور بے یارو مددگار متاثرہ عوام کے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کی حالیہ بارشوں کے سبب ڈیرہ غازی خان سے لے کر مکران تک بلوچ زمین پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اب تک 100 سے زائد انسانی جانوں کا زیاں ہو چکا ہے۔گھر بار،فصلیں تباہ ہو چکی ہیں،سیکڑوں گاؤں سیلاب کی زد میں آکر برباد ہو چکے ہیں،عوام اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

شہریوں پر ان سخت حالات کے باوجود ریاست کی توجہ آفت زدہ علاقوں کے بجائے پنجاب کے سیاسی دنگل پر ہے اور شہریوں کی مدد کرنے میں حکومتی ادارے یکسر ناکام ہیں۔ لوگوں کو قدرتی آفت میں بے یار ؤ مددگار چھوڑ دیا گیا ہے اور ریاست کے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے عوامی نقصانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان،راجن پور،تونسہ شریف،کیچ مکران،لسبیلہ،جھل مگسی سمیت بلوچستان کے دیگر بہت سے علاقے اس وقت شدید سیلاب کی زد میں ہیں۔جس سے کئی گاؤں و دیہات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک 100 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ حقیقی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہیں سیکڑوں خاندان اب بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں اور حکومتی ادارے قدرتی آفت سے نمٹنا تو دور ابھی تک آفت زدہ علاقوں تک رسائی بھی ممکن نہ بنا سکیں ہیں۔بلوچوں کے ساتھ انصاف و ترقی کے معیار پر تعصب نہیں بلکہ قدرتی آفات میں بھی یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے گویا بلوچوں کو اس ریاست میں انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں و متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ غازی خان سمیت بلوچستان بھر میں اس وقت لاکھوں لوگوں کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔ بہت سے علاقے سیلاب کے زد میں ہیں۔ انہیں فوری امداد ضرورت ہے۔ کئی ہزاروں افراد سیلاب کے پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جنہیں ریسکیو کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ان کی فوری طور پر ایمرجنسی بنیاد پر مدد نہیں کی گئی تو ہزاروں افراد بشمول بچے و خواتین اپنی جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment