انڈیا میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کو لگ بھگ 50 ارکانِ پارلیمنٹ کے ہمراہ دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاجی دھرنے سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
راہل گاندھی نئی دہلی میں کانگریس کے احتجاج کی قیادت ایک ایسے موقع پر کر رہے تھے جب ان کی والدہ سونیا گاندھی کو تفتیش کے لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) میں طلب کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق کانگریس کے رہنما انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے غلط استعمال، پارلیمان میں ملکی مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے اور راجیہ سبھا کے ارکان کو معطل کیے جانے کے خلاف صدر کی رہائش گاہ تک ریلی نکالنا چاہتے تھے۔
بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ارکان پارلیمان کے ہمراہ ہائی سیکیورٹی زون میں راج پاتھ کے قریب دھرنا دیا، جہاں پر قریب ہی پارلیمان اور دیگر اہم سرکاری دفاتر بھی ہیں۔ ان کو پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے گھیر رکھا تھا۔
پولیس حکام نے راہل گاندھی اور 50 ارکانِ پارلیمان کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔
کانگریس ملک میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے، جی ایس ٹی سمیت کئی دیگر معاملات پر احتجاج کر رہی ہے جن میں سیاسی رہنماؤں کو ملکی اداروں کے ذریعے ہدف بنانا بھی شامل ہے۔
کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دو تصاویر شیئر کی ہیں جن میں ایک جانب ان کی دادی کی بلیک اینڈ وائٹ فوٹو ہے جس میں وہ اسی انداز میں احتجاج کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب راہل گاندھی کے احتجاج کی تصویر ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
جس وقت ان کو حراست میں لیا جا رہا تھا اس وقت وہ تنہا تھے کیوں کہ پولیس اہلکار ان کے ہمراہ موجود دیگر افراد کو پہلے ہی گرفتار کر چکی تھی۔
گرفتاری کے بعد پولیس کے ہمراہ جاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک پولیس اسٹیٹ ہے جہاں نریندر مودی راجا ہیں۔