بلوچستان کے علاقے وڈھ میں قتل و غارت کے خلاف عوام کا روڈ بلاک دھرنا مذاکرات کے بعد ختم ہوگیا،ٹریفک بحال ہوگئی ہے۔
یہ دھرناگذشتہ روز کوئٹہ ٹوکراچی کی مرکزی شاہراہ پر دیا گیاجس سے ٹریفک مکمل طور پر بند ہوگئی تھی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ دھرنے کے دوران مظاہرین پر نامعلوم موٹر سائیکل سوار ہینڈ گرنیڈ پھینک کر فرار ہوگئے جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔
ہینڈ گرنیڈ پھٹنے سے ایک شخص زخمی ہوگیا، جسے معمولی طور پر ہاتھ میں زخم آئے تھے۔
ڈی سی خضدار اوردھرنامظاہرین کے متحدہ قومی اتحاد اور شیخ قبیلے کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعددھرنا ختم کردیا گیا اور روڈکو ٹریفک کے لئے کھول دیا۔
اس طرح 18 گھنٹے سے جام ہونے والی ٹریفک کھل گیا۔
یہ دھرناوڈھ میں قتل و غارت کیخلاف دیا گیا تھا جس میں تاجر برادری اور دیگر کاروباری حضرات کو اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری کے سلسلے میں قتل کیا جا چکا ہے جن میں ھدایت اللہ لہڑی، ذکریا مینگل، حاجی شیر محمد شیخ، محمد عارف مینگل، نانک رام اور اشوک کمار و دیگر شامل ہیں۔
اس قتل و غارت سے شیخ قبیلے کے 8 افراد قتل کیے جاچکے جن میں سے عبدالنبی شیخ مینگل کو دو روز قبل مرکزی شاہراہ پر قتل کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مسلسل احتجاجات ہوئے ہیں اور عوام نے مرکزی شاہراہ بند کرکے دھرنا دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر خضدار، کمشنر قلات ڈویژن، ڈسٹرکٹ سپریڈنٹ پولیس وغیرہ نے کئی بار عوام کو تحفظ کے فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے کہ قتل و غارت بند ہوگا مگر یہ یقین دہانیاں فقط جھوٹی تسلیاں ثابت ہوئی ہیں۔ اور انتظامیہ امن و امان کے قیام اور لوگوں کے جان و مال کی تحفظ میں مکمل طورپر ناکام رہا ہے۔
احتجاج پر بیٹھے عوام کا مطالبہ ہے حاجی شیرمحمد مینگل، عبدالنبی مینگل، شہید حاصل خان، مغوی وحید احمد، دیگر شہدا کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور شیخ طائفے کو وڈھ میں تحفظ فراہم کیا جائے۔