ایمن الظواہری زندی ہیں،افغانستان میں القاعدہ و داعش پنپ رہے ہیں، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گرد گروپ القاعدہ اور داعش طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں قدم جما رہے ہیں اور بیرونی دنیا کے لیے ممکنہ طور پر خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1526 اور 2253 قرارداد کے تحت قائم کردہ تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 30ویں رپورٹ میں القاعدہ، داعش اور افغانستان سمیت پورے خطے میں دیگر دہشت گرد گروپوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ القاعدہ اور داعش کا خطرہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں اور پڑوسی ممالک میں زیادہ ہے تاہم یہ دونوں دہشت گرد گروہ تنازعات سے محفوظ علاقوں میں بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اس رپورٹ میں دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا لیکن طالبان کے قبضے کے پیش نظر اس رپورٹ میں افغانستان خصوصی دلچسپی کا حامل رہا ہے جو داعش کے سب سے زیادہ فروغ پزیر نیٹ ورکس اور القاعدہ کی میزبانی کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے، وہاں مقیم دہشت گرد گروہ طالبان کی عسکری فتح کو پڑوسی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں پروپیگنڈے کے لیے ایک حوصلہ افزا عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

القاعدہ اور داعش کے سبب بین الاقوامی امن کے لیے مختلف سطح کے خطرات لاحق ہیں، افغانستان میں مقیم داعش-خراسان گروپ کو مختصر اور درمیانی مدت میں ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جبکہ القاعدہ کا خطرہ طویل مدت سے موجود ہے۔

ثنا اللہ غفاری عرف شہاب المہاجر ایک افغان شہری ہیں جو جون 2020 سے داعش خراسان گروپ کی قیادت کر رہے ہیں۔

تاہم داعش کے مرکزی گروپ نے اپنے علاقائی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے شیخ تمیم الکردی عرف ابو احمد المدنی کے زیرسایہ‘الصدیق آفس’کے نام سے ایک علیحدہ ڈھانچہ قائم کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش کی جانب سے اپنے خلافت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے افغانستان کو خطے میں توسیع کے لیے ایک اڈے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں مرکزی قیادت سے لاتعلق طالبان جنگجوؤں اور غیر مطمئن مقامی نسلی اقلیتوں کو راغب کرنے کے علاوہ دیگر دہشت گرد گروہوں میں موجود جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

علاوہ ازیں یہ گروپ جنگجوؤں کو وہاں کام کرنے والے دیگر عسکریت پسند گروہوں کے مقابلے میں زیادہ اجرت کی پیشکش کر کے اپنی جانب راغب کرتا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ داعش خراسان نے شمال اور مشرقی افغانستان میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، یہ وہ گروپ ہے جس نے ابتدا میں تحریک طالبان پاکستان اور افغان طالبان کے ارکان کو بھرتی کرکے آغاز کیا تھا اور اب اس کی صفوں میں وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو ہیں۔

انہوں نے شمال میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں جس کی سرحدیں وسطی ایشیائی ریاستوں تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے ملتی ہیں۔

اپریل میں داعش-خراسان نے تاجکستان اور ازبکستان میں راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ کیا تھا، دونوں ممالک نے ان راکٹوں کو نشانہ بننے کی تردید کی لیکن رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ایسے حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

ایک نامعلوم رکن ریاست کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ اگر داعش-خراسان گروپ مشرق کی جانب بڑھتا ہے جہاں اس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے تو یہ افغانستان میں موجود عالمی خطرہ بن سکتا ہے۔

دریں اثنا القاعدہ کی جانب سے طالبان کے دور حکومت میں افغانستان میں آزادانہ قیام کا لطف اٹھایا جا رہا ہے اور اس کے کچھ سینئر ارکان وہاں کی حکومت کو مشاورتی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ کی قیادت مبینہ طور پر طالبان کے ساتھ مشاورتی کردار ادا کرتی ہے اور دونوں کے درمیان قریبی تعلقات رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ نائن الیون کے موقع پر اسامہ بن لادن کے نائب کے طور پر کام کرنے والے القاعدہ کے راہنما ایمن الظواہری زندہ ہیں اور آزادانہ طور پر پیغام رسانی کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کہ افغان طالبان اب بھی القاعدہ کے ساتھ مضبوط اتحاد رکھتے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (اناما) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے اندر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی طالبان حکومت کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ اس کے علاوہ طالبان، رپورٹ کے مطابق، سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں، میڈیا ورکرز اور سول سوسائٹی کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں جن میں ماورائے عدالت گرفتاریاں، تشدد اور ناروا سلوک، دھمکیاں اور ہراساں کرنا شامل ہیں۔

یف ڈی ڈی لانگ وار جرنل نے اقوام متحدہ کے اینالیٹکل سپورٹ اینڈ سینکشن مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایمن الظواہری نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وہ بہت آسانی کے ساتھ پیغام رسانی بھی کر رہے ہیں۔

دہشتگردی کے امور کے بعض ماہرین، لانگ وار جرنل کے مطابق، اس سے قبل دعوی کر چکے ہیں کہ ظواہری کی نومبر دو ہزار بیس کے آس پاس موت واقع ہو چکی ہے۔

جرنل کے مطابق، البتہ یو این کی رپورٹ میں یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ آیا الظواہری افغانستان کے اندر متحرک ہیں یا نہیں۔

”رکن ممالک نے نوٹ کیا ہے کہ اظواہری کے لیے بظاہر پہلے سے زیادہ آسانی اور پیغام رسانی کی اہلیت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب افغانستان کے اندر طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔“

القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی، لانگ وار کے مطابق، ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ گروپ وسطی ایشیا کے جہادی گروپوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے جیسے کہ ترکمانستان اسلامک پارٹی اور نصراللہ گروپ کے ساتھ۔ اسی طرح عبدالحکیم ترکستانی نے جوالقاعدہ و طالبان سے منسلک گروپ ترکستانی کے سربراہ ہیں، عیدالفطر افغانستان میں ادا کی تھی۔ ترکستانی کو اس سے قبل امریکہ کے محکمہ خارجہ نے القاعدہ کی مرکزی شوری کے رکن کے طور پر شناخت کیا تھا۔

یو این کی رپورٹ میں القاعدہ کے افغانستان کے اندر منسلک گروپوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ القاعدہ کے اندر کون جانشین بننے کے لیے قطار میں ہے اور الظواہری کے بعد گروپ کی قیادت کے لیے تیار ہے۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ سیف ال عادل، ایمن الظواہری کے بعد جان نشینی کے لیے تیار ہیں۔اس کے بعد عبدالرحمن ال مغربی ہیں۔ ان کے بعد اسلامک مغرب میں القاعدہ کے سربراہ ہیں اور یزید مبراک اور ال شباب کے احمد دریے جان نشینی کے لیے قطار میں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment