خاران سے ایک اور شخص فورسز ہاتھوں جبری طورپر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران میں ایک اور شخص کوپاکستانی فورسز نے جبری طورپر لاپتہ کردیا ہے۔

لاپتہ کئے جانے والے شخص کی شناخت خاران کے رہائشی غلام جیلانی حسین زئی سیاپاد کے نام سے ہوگئی ہے۔

مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ شخص کی جبری گمشدگی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی بھی ملوث تھی۔

ذرائع کے مطابق غلام جیلانی گزشتہ روز اپنے گھر سے بازار کی جانب جارہے تھے کہ سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انہیں اغواء کرکے لاپتہ کردیا۔

خاران میں گزشتہ دو روز میں جبری گمشدگی کا یہ دوسرا واقع ہے، اس سے قبل محمد اسلم ولد جاجی محمد ابراھیم مینگل کو 18 جولائی کے روز شام کے وقت سی ٹی ڈی / خفیہ اداروں نے اغواء کیا تھا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ غلام جیلانی خاران کے ایک بلوچ سیاسی کارکن کے بھائی ہیں اور اس وجہ سے انہیں اس سے قبل بھی متعدد بار لاپتہ کیا جاچکا ہے۔

عوامی ذرائع کے مطابق خاران میں گزشتہ دنوں سی ٹی ڈی آفیسر و سابق ایس ایچ او پولیس عید محمد عیدو کی بلوچ لبریشن آرمی کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے خفیہ ادارے سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ہمراہ سول کپڑوں اور گاڑیوں میں علاقے میں مسلسل گشت کررہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment