بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ زیارت میں بلوچ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں مارنے کی تحقیقات کریں۔
انہوں نے کہا کہ چند دن قبل بلوچستان کے علاقے زیارت میں فورسز نے دعویٰ کیا کہ وہاں پر ایک مقابلہ ہوا اور مقابلے میں 9 افراد مارے گئے۔
اختر مینگل نے کہا کہ مارے جانے والوں میں 5 افراد پہلے سے سرکار کی حراست میں تھے، ان کو اٹھایا گیا تھا اس کا ثبوت ان کے پاس موجود ہے کہ کس آدمی کو کب، کس دن، کہاں سے اٹھایا گیا تھااور پھر اس کو رپورٹ کیا گیا باقاعدہ اور ان کے لواحقین مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بیٹھے ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پانچ افراد سرکاری حراست میں تھے،ان کو مار کے ان کی لاشیں وہاں پھینکی گئیں۔
اختر مینگل نے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ زیارت میں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کے مارے جانے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔
اختر مینگل نے خاص طور پر وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ انکوائری جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کروائی جائے۔