بلوچستان کے علاقے زیارت میں گذشتہ روزپاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں دوران آپریشن شہید ہونے والے ایک شخص کی شناخت بطور لاپتہ افراد کی ہوگئی ہے۔
اس بات کی تصدیق بلوچ لاپتہ افراد کی سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ زیارت میں مارے جانے والے لاشوں میں سے ایک لاش ”شمس ساتکزئی“کی ہے جسے ان کی خاندان نے شناخت کی۔
ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ خاندان کا کہنا ہے کہ شمس ساتکزئی 5 سال قبل جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
واضع رہے کہ گذشتہ دنوں زیارت میں پاکستان آرمی ایک حاضر سروس کرنل لئیق بیگ مرزا اور اس کا کزن عمر جاوید مسلح افراد کے ہاتھوں اغواہوجاتے ہیں۔بعدازاں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم ”بی ایل اے“ اس کارراوئی کی ذمہ داری قبو ل کرتی ہے اور دونوں کو مار دیتا ہے۔
بی ایل اے اپنے جاری کردہ بیان میں موقف اختیار کرتا ہے کہ کرنل لئیق معصوم بلوچوں کی جبری گمشدگی میں براہ راست ملوث تھا اسی لئے اسے موت کی سزا دی گئی ہے۔
اس واقعہ کے بعدزیارت اور گردو نواح میں فوجی آپریشن کاآغازکیا جاتا ہے۔جہاں بعد میں آئی ایس پی آر کی جانب سے وقفے وقفے سے تین بیان جاری ہوتے ہیں جس میں پہلے دو، پھر پانچ اور پھر چار اغوا کاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے دعوے کے بعدبی ایل اے اسے مسترد کرتی ہے اور اپنے بیان میں کہتا ہے کہ مذکورہ کرنل کے اغوا کے مشن میں شامل تمام سرمچار باحفاظت اپنے ٹھکانوں پر پہنچ گئے ہیں۔
بی ایل اے اپنے بیان میں اس خدشے کا اظہار بھی کرتا ہے کہ فورسز ہاتھو ں مارے جانے والے افراد پہلے سے لاپتہ ہونے والے لوگ ہی ہونگے۔