بلوچستان سے پاکستانی فوج کا کرنل مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع زیارت سے نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک کرنل کو اس کے ساتھی سمیت اغوا کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیاح فیملی کے ہمراہ زیارت سے واپس کوئٹہ جا رہے تھے کہ انہیں زیارت سے بیس کلومیٹر دور ورچوم کے مقام پر نامعلومد افراد نے روک کر شناخت کے بعد اغواء کر لیا۔

مغوی اپنے فیملی کے ساتھ جا رہے تھے ا۔اغوا کاروں نے فیملی کو بحفاظت جانے کا رستہ دیا۔

ذرائع کے مطابق اغواشدگان میں ایک کی شناخت پاکستان آرمی کے کوئٹہ ڈی ایچ اے میں حاضر سروس کرنل لائق کے نام سے ہوئی ہے۔

البتہ دوسرے کے شناخت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کردیاہے۔

کہا جارہاہے کہ کرنل کے اغوا کے بعد اس کی فیملی نے زیارت کوئٹہ روڈ کو بلاک کرکے احتجاج کیا۔

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰقدوس بزنجو نے پاکستانی فوج کے کرنل اور اس کے ساتھی کے اغوائکانوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ سیاحوں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور زیارت سمیت بلوچستان کے تمام سیاحتی مقامات پر حفاظتی امور کو مزید موثر بنایا جائے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔البتہ زیارت اور گردونواح میں آزادی پسند بلوچ مسلح قوتیں سرگرم ہیں۔خیال کیا جارہا ہے کہ یہ کام انہی کا ہوسکتا ہے لیکن ٹی ٹی پی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بعض افراد اس واقعہ کو بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں جاری جبری گمشدگیوں کا ردعمل قرار دے رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment