کراچی: احتجاجی کیمپ جاری،لاپتہ افراد لواحقین کا عید سے قبل پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر جمعہ کو چودھویں روز میں داخل ہوگیا۔

اس موقع پر واحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو عید سے قبل رہا کیا جائے۔ تاکہ وہ عید کی خوشیاں اپنے والدین، بھائیوں اور بیٹوں کے ساتھ گزارسکے۔

لاپتہ ہونے والے عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ حمید نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک بھر میں عید کے جانوروں کی قربانی کی خریداری عروج پر ہیں۔ اور فیملی عید کی شاپنگ میں مصروف ہیں۔ مگر وہ اپنے پیاروں کی قید ہونے کی وجہ سے نہ شاپنگ کرسکتے ہیں اور نہ ہی عید کے جانوروں کی قربانی خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے کمانے والوں کو لاپتہ کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ سخت مالی تنگ دستی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پیاروں کو عید سے قبل بازیاب کیا جائے۔ تاکہ وہ اپنی عید صحیح طریقے سے منا سکے۔

سعیدہ حمید نے کہا کہ اگر ان کے پیاروں کو بازیاب نہیں کیا گیا تو وہ عید کے روز بھی احتجاج جاری رکھیں گے۔

مظاہرین نے حکومتی اداروں کی جانب سے بلوچوں کے اغوا کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

کراچی پریس کلب کے باہر لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ احتجاجی کیمپ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

کیمپ کی قیادت بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے کی۔

احتجاجی کیمپ میں عبدالحمید زہری، سعید عمر، محمد عمران، شوکت بلوچ اور نوربخش حبیب کے لواحقین شریک تھے۔

Share This Article
Leave a Comment