تیس جون | کینگی سلیمان بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

میں کیوں لکتھا ہوں ؟ میں کیسے لکتھا ہوں؟ یہ سوال میں نے اپنے آپ سے ہزار بار پوچھا لیکن اسکا جواب مجھے ابھی تک نہیں ملا میں جب بھی اپنے ہاتھ میں قلم اٹھاتا ہوں پھر میں سوچھتا ہوں کہ آج میں کس کردار کے بارے میں لکھوں کیوں کہ ہمارے قوم میں کرداروں کی کمی نہیں ہے
تو اس کے بعد جب میں طے کرتا ہوں کہ مجھے اس کردار کے بارے میں لکھنا ہے تو ایک بار پھر سے میرے زہن میں ایک خیال آتا ہے
کیا میں اس قابل ہوں کہ میں  ایک کردار کے بارے میں لکھ سکوں؟ ایک بار پھر سے میرے ہاتھ سے قلم گر جاتا ہے میرے ہاتھ لرزنے لگتے ہیں
آج میں نے خود کو بہت ہمت اور تسلی دینے کے بعد گھنٹوں تک کتابیں پڑھائی کی، اور ان کے بعد کچھ چراغوں کے بارے میں لکھنے کے لئے ہمت جُڑا پایا ہوں میں ان ہستیوں کے بارے میں لکھ رہاہوں جو کہ سات سال قبل اسی دن تیس جون دوہزار پندرہ کو قبضہ گیر ریاست کے فوجیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے
میں ان شخصیتوں کے بارے میں لکھ رہاہوں جنہوں نے جنگ  لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر کہ پورے قوم کو ایک روشن مستقبل دکھا کر امر ہوگے
وہ تیس جون 2015 کا دن تھا جب مشکے میئی میں خون ریز جنگ چھڑگئی جس میں دشمن کی کئی افسر اور سپاہی مارے گئے اسی خون ریز جنگ میں بارہ مادر وطن کے عاشق سرزمین کی دفاع کرتے ہوئے گُلزمین کے آغوش میں چلے گئے
ان میں سے ایک شھید شیہک جان تھا جو دشمن سے لڑتے ہوئے زخمی ہوگئے زخمی حالت میں اپنے قوم اور اپنے لوگوں کو ایک پیغام دے کر اپنے آنے والے نسلوں کے لئے ایک نیا فلسفہ کائم کردیا اور شھید شہیک جان کے ساتھ شھید فرہاد نے بھی اپنے شیریں کو چھوڑ کر خود کو ایک خوبصورت مستقبل کے لئے فنا کردیا ان کے ساتھ دس اور بھی ساتھی موجود تھے جن میں شھید شیہک جان کے بھائی زاکر بلوچ، اور چاچا سفر خان بلوچ، اور بالاچ بلوچ،خُدانزر بلوچ ، گاجی خان بلوچ،الم خان بلوچ، شاہجی بلوچ، عامر بلوچ اور دو جھاؤ کے رہائشی شہید رفیق اور شہید ظہیر بلوچ بھی شامل تھے۔

زاکر جان! اپنے دوستوں کے قربانیوں کو دیکھ کر اس میں ایک نیا جزبہ پیدا ہوا وہ ہر وقت جنگ کی تیاری میں تھا ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو کبھی چین سے جینے نہیں دینا چایئے تم اکیلے ہو دشمن ہزاروں کی تعداد میں کیوں نہ ہو ان میں وہ سارے باتیں تھے جو کہ ایک سرمچار میں ہونا چایئے

جب صبح سویرے جنگ چڑھ جاتا ہے تو زاکر اس وقت وہاں موجود نہیں ہوتا ہے جب وہ بے پناہ گولیوں کی آوازیں سُن کر فوراً بنا سوچھے سمجھے انہیں یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ دشمن کہان بیٹا ہوا ہے بس انہیں یہ پتا ہوتا ہے کہ کچھ دوستون کو میری ضرورت ہے وہ سر پر کفن باندھ کر دشمن سے لڑتا ہے وہ لڑتے ہوئے یہ کہتا ہے اپنے دوستون سے کہ اگر آج جو شھید ہوچکے ہیں میں انہیں واپس نہیں لاسکتا اور جو زندہ ہیں انہیں میں مرنے بھی نہیں دونگا وہ اُس وقت تک لڑتا ہے جب تک اس کے سارے دوست بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جیسے کہ لوگ کہتے ہیں اگر ایک زندگی کے بدلے دس زندگیاں بچ جائے پھر اس اکیلے جان کی کوئی پرواہ نہیں ہوتا ہے اِس بات کو زاکر جان نے سچ صابت کردیا

ہم اکثر جنگوں کے بارے میں لکھتے ہیں سُنتے ہیں پڑھتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے واقعی جنگ ایک تباہی ہے پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ جنگوں کے قصے اچھے ہوتے ہیں بقول ایک سنگت کے اُن جنگوں کے قصے بھی اچھے نہیں ہوتے جس میں ہم اپنے پیاروں کو کھودیتے ہیں۔

***

Share This Article
Leave a Comment